سنن ابن ماجه
كتاب الجنائز— کتاب: صلاۃ جنازہ کے احکام و مسائل
بَابُ : مَا جَاءَ فِي التَّكْبِيرِ عَلَى الْجِنَازَةِ أَرْبَعًا باب: نماز جنازہ میں چار تکبیرات کا بیان۔
حدیث نمبر: 1504
حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْيَمَانِ ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ خَلِيفَةَ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَبَّرَ أَرْبَعًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار بار تکبیریں «الله أكبر» کہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´نماز جنازہ میں چار تکبیرات کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار بار تکبیریں «الله أكبر» کہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1504]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار بار تکبیریں «الله أكبر» کہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1504]
اردو حاشہ:
فائدہ: احادیث میں تکبیرات جنازہ کی بابت مروی ہے کہ تکبیرات جنازہ تین سے لے کر نو تک ہیں مگر چار پر سلف اور خلف کا اجماع ہے اور اکثر روایات بھی اسی کی بابت ہیں۔
نیز صحیح بخاری میں بھی تکبیریں جنازہ چار ہی مروی ہیں۔
واللہ أعلم۔
فائدہ: احادیث میں تکبیرات جنازہ کی بابت مروی ہے کہ تکبیرات جنازہ تین سے لے کر نو تک ہیں مگر چار پر سلف اور خلف کا اجماع ہے اور اکثر روایات بھی اسی کی بابت ہیں۔
نیز صحیح بخاری میں بھی تکبیریں جنازہ چار ہی مروی ہیں۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1504 سے ماخوذ ہے۔