حدیث نمبر: 1502
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْإِيَاسِ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلَّى عَلَى عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ ، وَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ پڑھائی ، اور چار تکبیریں کہیں ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1502
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف جدًا, خالد بن إياس: متروك, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 432
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 9828 ، ومصباح الزجاجة : 534 ) ( ضعیف ) » ( اس میں خالد بن ایاس ضعیف ہیں )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´نماز جنازہ میں چار تکبیرات کا بیان۔`
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ پڑھائی، اور چار تکبیریں کہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1502]
اردو حاشہ:
فائدہ: مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے۔
لیکن اس میں بیان کردہ مسئلہ درست ہے کیونکہ دوسری صحیح احادیث سے اس کی تایئد ہوتی ہے۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس مسئلے کی دلیل کے طور پر حضرات نجاشی رحمۃ اللہ علیہ (شاہ حبشہ)
کی غائبانہ نماز جنازہ کاواقعہ ذکرفرمایا ہے۔
اس موقع پر نبی کریم ﷺ نے نماز جنازہ میں چار تکبیریں کہی تھیں۔
دیکھئے:(صحیح البخاري، الجنائز، باب التکبیر علی الجنازة أربعاً، حدیث: 1333)
سنن ابن ماجہ کی حدیث 1504 سے بھی اس کی تایئد ہوتی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1502 سے ماخوذ ہے۔