حدیث نمبر: 1494
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ أَبِي غَالِبٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ صَلَّى عَلَى جِنَازَةِ رَجُلٍ ، فَقَامَ حِيَالَ رَأْسِهِ ، فَجِيءَ بِجِنَازَةٍ أُخْرَى بِامْرَأَةٍ ، فَقَالُوا : يَا أَبَا حَمْزَةَ ، صَلِّ عَلَيْهَا ، فَقَامَ حِيَالَ وَسَطِ السَّرِيرِ ، فَقَالَ الْعَلَاءُ بْنُ زِيَادٍ : يَا أَبَا حَمْزَةَ ، هَكَذَا رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَامَ مِنَ الْجِنَازَةِ مُقَامَكَ مِنَ الرَّجُلِ ، وَقَامَ مِنَ الْمَرْأَةِ مُقَامَكَ مِنَ الْمَرْأَةِ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ " ، فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا ، فَقَالَ : احْفَظُوا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوغالب کہتے ہیں کہ` میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے ایک آدمی کی نماز جنازہ پڑھائی تو اس کے سر کے سامنے کھڑے ہوئے ، پھر ایک دوسرا جنازہ ایک عورت کا لایا گیا ، تو لوگوں نے کہا : اے ابوحمزہ ! اس کی نماز جنازہ پڑھائیے ، تو وہ چارپائی کے بیچ میں کھڑے ہوئے ، تو ان سے علاء بن زیاد نے کہا : اے ابوحمزہ ! کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح مرد اور عورت کے جنازے میں کھڑے ہوتے ہوئے دیکھا ، جس طرح آپ کھڑے ہوئے ؟ انہوں نے کہا : ہاں ، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور بولے : سب لوگ یاد کر لو ۔

وضاحت:
۱؎: ابوحمزہ: انس رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1494
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث « سنن ابی داود/الجنائز57 ( 3194 ) ، سنن الترمذی/الجنائز45 ( 1034 ) ، ( تحفة الأشراف : 1621 ) ، وقد أخرجہ : حم ( 3/118 ، 151 ، 204 ) ( صحیح ) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´نماز جنازہ پڑھاتے وقت امام کہاں کھڑا ہو؟`
ابوغالب کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے ایک آدمی کی نماز جنازہ پڑھائی تو اس کے سر کے سامنے کھڑے ہوئے، پھر ایک دوسرا جنازہ ایک عورت کا لایا گیا، تو لوگوں نے کہا: اے ابوحمزہ! اس کی نماز جنازہ پڑھائیے، تو وہ چارپائی کے بیچ میں کھڑے ہوئے، تو ان سے علاء بن زیاد نے کہا: اے ابوحمزہ! کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح مرد اور عورت کے جنازے میں کھڑے ہوتے ہوئے دیکھا، جس طرح آپ کھڑے ہوئے؟ انہوں نے کہا: ہاں، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور بولے: سب لوگ یاد کر لو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1494]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
نماز جنازہ ادا کرتے وقت امام کو مرد کے سر کے قریب اور عورت کی کمر کے قریب کھڑے ہونا چاہیے۔

(2)
امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ سے بھی ایک روایت میں یہی قول منقول ہے البتہ حنفی مذہب کا مشہور قول یہ ہے کہ مرد ہو یا عورت امام کو اس کے سینے کے برابر کھڑا ہونا چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1494 سے ماخوذ ہے۔