حدیث نمبر: 149
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي رَبِيعَةَ الْإِيَادِيِّ ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي بِحُبِّ أَرْبَعَةٍ ، وَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ يُحِبُّهُمْ " ، قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ هُمْ ؟ قَالَ : " عَلِيٌّ مِنْهُمْ " ، يَقُولُ ذَلِكَ ثَلَاثًا : " وَأَبُو ذَرٍّ ، وَسَلْمَانُ ، وَالْمِقْدَادُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ نے مجھے چار افراد سے محبت کرنے کا حکم دیا ہے ، اور مجھے بتایا ہے کہ وہ بھی ان سے محبت رکھتا ہے “ ، عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! وہ کون لوگ ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” علی انہیں لوگوں میں سے ہیں ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تین بار فرمایا ) ، اور ابوذر ، سلمان اور مقداد ہیں “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 149
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «سنن الترمذی/المنا قب 21 ( 3718 ) ، ( تحفة الأشراف : 2008 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 5/351 ، 356 ) ( ضعیف ) » ( ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الضعیفة ، للالبانی : 1549 )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 3718

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3718 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´باب`
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے مجھے چار شخصوں سے محبت کا حکم دیا ہے، اور مجھے بتایا ہے کہ وہ بھی ان سے محبت کرتا ہے ، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! ہمیں ان کا نام بتا دیجئیے، آپ نے فرمایا: علی انہیں میں سے ہیں ، آپ اس جملہ کو تین بار دہرا رہے تھے اور باقی تین: ابوذر، مقداد اور سلمان ہیں، مجھے اللہ نے ان لوگوں سے محبت کرنے کا حکم دیا ہے، اور مجھے اس نے بتایا ہے کہ وہ بھی ان لوگوں سے محبت رکھتا ہے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3718]
اردو حاشہ:
وضاحت:
نوٹ:
(سند میں ابوربیعہ ایادی لین الحدیث، اور شریک القاضی ضعیف الحفظ ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3718 سے ماخوذ ہے۔