حدیث نمبر: 1487
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، أَنْبَأَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى الْفُضَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ أَبِي حَرِيزٍ ، أَنَّ أَبَا بُرْدَةَ حَدَّثَهُ ، قَالَ : أَوْصَى أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ حِينَ حَضَرَهُ الْمَوْتُ ، فَقَالَ " لَا تُتْبِعُونِي بِمِجْمَرٍ ، قَالُوا لَهُ : أَوَ سَمِعْتَ فِيهِ شَيْئًا ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوبردہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` جب ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت ہوا ، تو انہوں نے وصیت کی کہ میرے جنازے کے ساتھ آگ نہ لے جانا ، لوگوں نے پوچھا : کیا اس سلسلے میں آپ نے کچھ سنا ہے ؟ انہوں نے کہا : جی ہاں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1487
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, أبوحريز عبد اللّٰه بن الحسين: ضعيف يعتبر به (التحرير: 3276) ضعفه أحمد والجمھور و قال الھيثمي: وضعفه جمھور الأئمة (مجمع الزوائد243/4), و قالت أسماء بنت أبي بكر رضي اللّٰه عنھما لأھلھا: ’’ أجمروا ثيابي إذا متّ،ثم حنطوني ولا تذروا علي كفني حنوطًا،ولا تتبعوني بنار‘‘ (الموطأ للإمام مالك،رواية أبي مصعب الزھري 1/ 400ح 1014،و سنده صحيح وصححه الزيلعي الحنفي في نصب الراية 2/ 264), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 431
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 9110 ، ومصباح الزجاجة : 529 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 4/397 ) ( حسن ) » ( شواہد کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے ، ورنہ اس کی سند میں ابو حریز عبد اللہ بن حسین ہیں ، جن کے بارے میں ابن حجر نے «صدوق یخطی» کہا ہے )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´جنازہ تیار ہو تو (اس کے دفنانے میں) دیر نہ کرنے اور جنازہ کے ساتھ آگ نہ لے جانے کا بیان۔`
ابوبردہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت ہوا، تو انہوں نے وصیت کی کہ میرے جنازے کے ساتھ آگ نہ لے جانا، لوگوں نے پوچھا: کیا اس سلسلے میں آپ نے کچھ سنا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1487]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
ہندو اور مجوسی آگ کو مقدس سمجھتے ہیں۔
اس لئے ان کے ہاں خوشی اور غمی کی رسموں میں آگ کا استعمال ہوتا ہے۔
ہندو مردے کو دفن کرنے کی بجائے آگ میں جلاتے ہیں میت کے ساتھ آگ لے جانے میں ان غیر مسلموں سے ایک طرح مشابہت ہوتی ہے۔

(2)
اس سے قبروں پر چراغ جلانے کی ممانعت بھی ظاہر ہوتی ہے۔
جب جنازے کے ساتھ آگ لے جانا منع ہے تو دفن کے بعد قبر پر آگ رکھنا بالاولیٰ منع ہوگا۔
اس کے علاوہ چراغ جلانے میں مال کا ضیاع ہے جو حرام ہے یہی وجہ ہے کہ رسول اللہﷺ نے قبروں پر چراغ جلانے والوں پر لعنت فرمائی ہے۔ (جامع ترمذي، الصلاۃ، باب ماجاء فی کراھیة أن یتخذ علی القبر مسجدا، حدیث: 320)
 امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے علامہ احمد محمد شاکر رحمۃ اللہ علیہ نے بھی یہی حکم لگایا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1487 سے ماخوذ ہے۔