سنن ابن ماجه
كتاب الجنائز— کتاب: صلاۃ جنازہ کے احکام و مسائل
بَابُ : مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنِ التَّسَلُّبِ مَعَ الْجِنَازَةِ باب: جنازہ کے ساتھ ماتمی لباس پہننے کی ممانعت۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَزَوَّرِ ، عَنْ نُفَيْعٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، وأبى برزة قَالَا : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جِنَازَةٍ ، فَرَأَى قَوْمًا قَدْ طَرَحُوا أَرْدِيَتَهُمْ ، يَمْشُونَ فِي قُمُصٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَبِفِعْلِ الْجَاهِلِيَّةِ تَأْخُذُونَ أَوْ بِصُنْعِ الْجَاهِلِيَّةِ تَشَبَّهُونَ ، لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَدْعُوَ عَلَيْكُمْ دَعْوَةً تَرْجِعُونَ فِي غَيْرِ صُوَرِكُمْ " ، قَالَ : فَأَخَذُوا أَرْدِيَتَهُمْ ، وَلَمْ يَعُودُوا لِذَلِكَ .
´عمران بن حصین اور ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازہ میں نکلے ، تو آپ نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ انہوں نے اپنی چادریں پھینک دیں ، اور صرف قمیصیں پہنے ہوئے چل رہے تھے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم لوگ دور جاہلیت کا طریقہ اپناتے ہو یا جاہلیت کے طریقہ کی مشابہت کرتے ہو ؟ میں نے ارادہ کیا کہ تم پر ایسی بد دعا کروں کہ تم اپنی صورتوں کے علاوہ دوسری صورتوں میں اپنے گھروں کو لوٹو “ یہ سنتے ہی ان لوگوں نے اپنی چادریں لے لیں ، اور دوبارہ ایسا نہ کیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عمران بن حصین اور ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازہ میں نکلے، تو آپ نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ انہوں نے اپنی چادریں پھینک دیں، اور صرف قمیصیں پہنے ہوئے چل رہے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کیا تم لوگ دور جاہلیت کا طریقہ اپناتے ہو یا جاہلیت کے طریقہ کی مشابہت کرتے ہو؟ میں نے ارادہ کیا کہ تم پر ایسی بد دعا کروں کہ تم اپنی صورتوں کے علاوہ دوسری صورتوں میں اپنے گھروں کو لوٹو “ یہ سنتے ہی ان لوگوں نے اپنی چادریں لے لیں، اور دوبارہ ایسا نہ کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1485]
فائدہ: جو کام غير مسلمانوں میں رائج ہیں مسلمانوں کو انھیں اختیار کرنے سے پرہیز کرنا ضروری ہے غیر مسلموں سے مشابہت حرام ہونے کے دلائل قرآن وحدیث میں موجود ہیں۔
اس لئے خوشی کا موقع ہو یا غمی کا یہود نصاریٰ اور ہندووں کے رسم ورواج سے اجتناب کرنا فرض ہے۔