حدیث نمبر: 1484
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي مَاجِدَةَ الْحَنَفِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْجِنَازَةُ مَتْبُوعَةٌ ، وَلَيْسَتْ بِتَابِعَةٍ ، لَيْسَ مِنْهَا مَنْ تَقَدَّمَهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جنازہ کے پیچھے چلنا چاہیئے ، اس کے آگے نہیں چلنا چاہیئے ، جو کوئی جنازہ کے آگے ہو وہ اس کے ساتھ نہیں ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1484
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, سنن أبي داود (3184) ترمذي (1011), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 431
تخریج حدیث « سنن ابی داود/الجنائز50 ( 3184 ) ، سنن الترمذی/الجنائز 27 ( 1011 ) ، ( تحفة الأشراف : 9637 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 1/378 ، 394 ، 415 ، 419 ، 432 ) ( ضعیف ) » ( اس کی سند میں ابو ماجدہ حنفی ضعیف ہیں )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 1011 | سنن ابي داود: 3184

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1011 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´جنازے کے پیچھے چلنے کا بیان۔`
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنازے کے پیچھے چلنے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: " ایسی چال چلے جو دلکی چال سے دھیمی ہو۔ اگر وہ نیک ہے تو تم اسے جلدی قبر میں پہنچا دو گے اور اگر برا ہے تو جہنمیوں ہی کو دور ہٹایا جاتا ہے۔ جنازہ کے پیچھے چلنا چاہیئے، اس سے آگے نہیں ہونا چاہیئے، جو جنازہ کے آگے چلے وہ اس کے ساتھ جانے والوں میں سے نہیں۔‏‏‏‏" [سنن ترمذي/كتاب الجنائز/حدیث: 1011]
اردو حاشہ:
نوٹ:

(سند میں یحییٰ الجابرلین الحدیث، اور ابوماجدمجہول ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1011 سے ماخوذ ہے۔