مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 1474
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا وَلِيَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ ، فَلْيُحْسِنْ كَفَنَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کی تجہیز و تکفین کا ذمہ دار ہو ، تو اسے اچھا کفن دے “ ۔

وضاحت:
۱؎: اچھے کفن سے مراد کپڑے کی صفائی اور سفیدی ہے، قیمتی کپڑا مراد نہیں، اس لئے کہ قیمتی کفن سے آپ ﷺ نے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1474
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 995

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´کفن کے لیے کون سا کپڑا اچھا اور مستحب ہے؟`
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کی تجہیز و تکفین کا ذمہ دار ہو، تو اسے اچھا کفن دے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1474]
اردو حاشہ:
فائدہ: اچھے کفن سے مراد یہ ہے کہ صاف ستھرا ہو۔
اتنا موٹا ہو کہ بدن کو چھپا لے، اتنا بڑا ہوکہ پورا جسم چھپ جائے اور درمیانی قسم کا ہو۔
بہت زیادہ نفیس اور قیمتی مراد نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1474 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔