حدیث نمبر: 1468
حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَنَا مُتُّ فَاغْسِلْنِي بِسَبْعِ قِرَبٍ مِنْ بِئْرِي بِئْرِ غَرْسٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب میں انتقال کر جاؤں تو مجھے میرے کنویں ( بئر غرس ) کے سات مشکیزوں سے غسل دینا “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1468
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, عباد بن يعقوب الرواجني الاسدي: ثقة صدوق عند الجمهور، فھو حسن الحديث
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 10164 ، ومصباح الزجاجة : 523 ) ( ضعیف ) » ( اس کی سند میں عباد بن یعقوب متروک ہے ، ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الضعیفة ، للالبانی : 1237 )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کی کیفیت کا بیان۔`
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جب میں انتقال کر جاؤں تو مجھے میرے کنویں (بئر غرس) کے سات مشکیزوں سے غسل دینا۔‏‏‏‏" [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1468]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
بئر غرس مدینہ میں اس طرف ایک کنواں تھا جہاں قبیلہ بنو نضیر کی رہائش ہوا کرتی تھی۔
یہ کنواں اپنے پانی کی عمدگی کی وجہ سے مشہور تھا۔ (معجم البلدان: 193/4)
۔

(2)
مذکورہ روایت محققین کے نذدیک ضعیف ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1468 سے ماخوذ ہے۔