سنن ابن ماجه
كتاب الجنائز— کتاب: صلاۃ جنازہ کے احکام و مسائل
بَابُ : مَا جَاءَ فِي غُسْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کی کیفیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1468
حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَنَا مُتُّ فَاغْسِلْنِي بِسَبْعِ قِرَبٍ مِنْ بِئْرِي بِئْرِ غَرْسٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب میں انتقال کر جاؤں تو مجھے میرے کنویں ( بئر غرس ) کے سات مشکیزوں سے غسل دینا “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کی کیفیت کا بیان۔`
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جب میں انتقال کر جاؤں تو مجھے میرے کنویں (بئر غرس) کے سات مشکیزوں سے غسل دینا۔" [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1468]
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جب میں انتقال کر جاؤں تو مجھے میرے کنویں (بئر غرس) کے سات مشکیزوں سے غسل دینا۔" [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1468]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
بئر غرس مدینہ میں اس طرف ایک کنواں تھا جہاں قبیلہ بنو نضیر کی رہائش ہوا کرتی تھی۔
یہ کنواں اپنے پانی کی عمدگی کی وجہ سے مشہور تھا۔ (معجم البلدان: 193/4)
۔
(2)
مذکورہ روایت محققین کے نذدیک ضعیف ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
بئر غرس مدینہ میں اس طرف ایک کنواں تھا جہاں قبیلہ بنو نضیر کی رہائش ہوا کرتی تھی۔
یہ کنواں اپنے پانی کی عمدگی کی وجہ سے مشہور تھا۔ (معجم البلدان: 193/4)
۔
(2)
مذکورہ روایت محققین کے نذدیک ضعیف ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1468 سے ماخوذ ہے۔