حدیث نمبر: 1464
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الذَّهَبِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " لَوْ كُنْتُ اسْتَقْبَلْتُ مِنَ الأَمْرِ ، مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا غَسَّلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ نِسَائِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` اگر مجھے اپنی اس بات کا علم پہلے ہی ہو گیا ہوتا جو بعد میں ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی بیویاں ہی غسل دیتیں ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عورت اپنے شوہر کو غسل دے سکتی ہے کیونکہ بیوی محرم راز ہوتی ہے، اور اس سے ستر بھی نہیں ہوتا، پس اس کا غسل دینا شوہر کو بہ نسبت دوسروں کے اولیٰ اور بہتر ہے، اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ان کی بیوی اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے غسل دیا، اور کسی صحابی نے اس پر نکیر نہیں کی، اور یہ مسئلہ اتفاقی ہے، نیز ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم ﷺ کو غسل نہ دے سکنے پر افسوس کا اظہار کیا ہے، اگر یہ جائز نہ ہوتا تو وہ افسوس کا اظہار نہ کرتیں، جیسا کہ امام بیہقی فرماتے ہیں: «فتلهفت على ذلك ولا يتلهف إلا على ما يجوز» ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1464
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 16182 ، ومصباح الزجاجة : 519 ) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الجنائز 32 ( 3141 ) ، مسند احمد ( 6/267 ) ( صحیح ) » ( سند میں ابن اسحاق مدلس ہیں ، اور روایت عنعنہ سے ہے ، لیکن منتقی ابن الجارو د ، صحیح ابن حبان اور مستدرک الحاکم میں تحدیث کی صراحت ہے ، دفاع عن الحدیث النبوی 53-54 ، والإرواء : 700 )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´شوہر بیوی کو اور بیوی شوہر کو غسل دے اس کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اگر مجھے اپنی اس بات کا علم پہلے ہی ہو گیا ہوتا جو بعد میں ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی بیویاں ہی غسل دیتیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1464]
اردو حاشہ:
فائدہ: خاوند اور بیوی کا باہمی تعلق ایسا ہے۔
جو کسی اور کا نہیں۔
اور ان کا ایک دوسرے سے جسم کے کسی حصہ کا پردہ بھی نہیں۔
اس لئے سب سے زیادہ انہی کا حق ہے۔
کہ ایک دوسرے کوغسل دیں۔
اس میں ان لوگوں کا رد بھی ہے۔
جو کہتے ہیں کہ مرنے کے بعد خاوند بیوی ایک دوسرے کا نہ چہرہ دیکھ سکتے ہیں اور نہ ایک دوسرے کو غسل دے سکتے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1464 سے ماخوذ ہے۔