سنن ابن ماجه
كتاب الجنائز— کتاب: صلاۃ جنازہ کے احکام و مسائل
بَابُ : مَا جَاءَ فِي غُسْلِ الْمَيِّتِ باب: میت کو غسل دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1462
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ غَسَّلَ مَيِّتًا وَكَفَّنَهُ وَحَنَّطَهُ وَحَمَلَهُ وَصَلَّى عَلَيْهِ ، وَلَمْ يُفْشِ عَلَيْهِ مَا رَأَى ، خَرَجَ مِنْ خَطِيئَتِهِ مِثْلَ يَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے کسی مردے کو غسل دیا ، اسے کفن پہنایا ، اسے خوشبو لگائی ، اور اسے کندھا دے کر قبرستان لے گیا ، اس پہ نماز جنازہ پڑھی ، اور اگر کوئی عیب دیکھا تو اسے پھیلایا نہیں ، تو وہ اپنے گناہوں سے اس طرح پاک ہو گیا جیسے وہ اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´میت کو غسل دینے کا بیان۔`
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جس نے کسی مردے کو غسل دیا، اسے کفن پہنایا، اسے خوشبو لگائی، اور اسے کندھا دے کر قبرستان لے گیا، اس پہ نماز جنازہ پڑھی، اور اگر کوئی عیب دیکھا تو اسے پھیلایا نہیں، تو وہ اپنے گناہوں سے اس طرح پاک ہو گیا جیسے وہ اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا۔" [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1462]
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جس نے کسی مردے کو غسل دیا، اسے کفن پہنایا، اسے خوشبو لگائی، اور اسے کندھا دے کر قبرستان لے گیا، اس پہ نماز جنازہ پڑھی، اور اگر کوئی عیب دیکھا تو اسے پھیلایا نہیں، تو وہ اپنے گناہوں سے اس طرح پاک ہو گیا جیسے وہ اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا۔" [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1462]
اردو حاشہ:
فائدہ: یہ روایت توصحیح نہیں ہے۔
تاہم دوسرے دلائل سے واضح ہے کہ میت کے بارے میں معلوم ہونے والی نامناسب باتوں کوراز میں رکھنا ثواب ہے۔
ارشاد نبوی ﷺ ہے۔
جس نے کسی مسلمان کو غسل دیا اور اس کے عیب کو چھپا لیا۔
اللہ تعالیٰ اسے چالیس مرتبہ معاف فرمادیتا ہے۔ (المستدرك للحاکم، الجنائز: 362/1)
اس کی سند صحیح ہے۔
علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اسے صحیح قرار دیا ہے۔
دیکھئے: (صحیح الترغیب، حدیث: 3492)
فائدہ: یہ روایت توصحیح نہیں ہے۔
تاہم دوسرے دلائل سے واضح ہے کہ میت کے بارے میں معلوم ہونے والی نامناسب باتوں کوراز میں رکھنا ثواب ہے۔
ارشاد نبوی ﷺ ہے۔
جس نے کسی مسلمان کو غسل دیا اور اس کے عیب کو چھپا لیا۔
اللہ تعالیٰ اسے چالیس مرتبہ معاف فرمادیتا ہے۔ (المستدرك للحاکم، الجنائز: 362/1)
اس کی سند صحیح ہے۔
علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اسے صحیح قرار دیا ہے۔
دیکھئے: (صحیح الترغیب، حدیث: 3492)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1462 سے ماخوذ ہے۔