مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 1456
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " قَبَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ وَهُوَ مَيِّتٌ ، فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى دُمُوعِهِ تَسِيلُ عَلَى خَدَّيْهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ ۱؎ کا بوسہ لیا ، اور وہ مردہ تھے ، گویا کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آنسوؤں کو دیکھ رہی ہوں جو آپ کے رخسار مبارک پہ بہہ رہے تھے ۔

وضاحت:
۱؎: عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے رضاعی بھائی تھے، اور دونوں ہجرتوں میں شریک تھے، اور بدر کی لڑائی میں حاضر تھے، اور مہاجرین میں سے مدینہ میں سب سے پہلے آپ ہی کی وفات ہوئی، شعبان کے مہینے میں ہجرت کے ڈھائی سال کے بعد، اور جب آپ دفن ہوئے تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ہمارا پیش خیمہ اچھا ہے ، اور وہ بقیع میں دفن ہوئے، عابد، زاہد اور فضلائے صحابہ میں سے تھے، اور نبی کریم ﷺ نے ایک پتھر خود اٹھایا اور ان کی قبر پر رکھا، «رضی اللہ عنہ وأرضاہ» ۔ ۲؎: اس حدیث سے میت پر رونے کا جواز ثابت ہوتا ہے، رہی ممانعت والی روایت تو اسے آواز اور جزع و فزع (بے صبری) کے ساتھ رونے پر محمول کیا جائے گا، یا یہ ممانعت عورتوں کے ساتھ مخصوص ہوگی کیونکہ اکثر وہ بے صبری ہوتی ہیں، اور رونے پیٹنے لگتی ہیں، اس لئے سدباب کے طور پر انہیں اس سے منع کر دیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1456
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, سنن أبي داود (3163) ترمذي (989), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 429
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 989 | سنن ابي داود: 3163

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´میت کے بوسہ لینے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ ۱؎ کا بوسہ لیا، اور وہ مردہ تھے، گویا کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آنسوؤں کو دیکھ رہی ہوں جو آپ کے رخسار مبارک پہ بہہ رہے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1456]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
حضرت عثمان بن مظعون کبار صحابہ کرام رضوان للہ عنہم اجمعین میں سے ہیں۔
ان سے پہلے صرف تیرہ افراد اسلام لائے تھے۔
ہجرت حبشہ اور ہجرت مدینہ کے شرف سے مشرف ہوئے۔
جنگ بدر میں بھی شریک ہوئے۔
نواب وحید الزمان خاں نے لکھا ہے۔
کہ حضرت عثمان بن مظعون رسول اللہ ﷺکے دودھ شریک بھائی بھی تھے۔

(2)
غم کی وجہ سے رونا اور آنسو بہنا صبر کے منافی نہیں۔
بلکہ رحمت اور نرم دلی کی علامت ہے۔

(3)
مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے۔
رسول اللہ ﷺ سے میت کو بوسہ دینا ثابت نہیں البتہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی اکرمﷺ کو وفات کے بعد بوسہ دیا تھا۔
جیسا کہ آئندہ روایت میں مذکور ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1456 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 989 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´میت کے بوسہ لینے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن مظعون رضی الله عنہ کا بوسہ لیا - وہ انتقال کر چکے تھے - آپ رو رہے تھے۔ یا (راوی نے) کہا: آپ کی دونوں آنکھیں اشک بار تھیں ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الجنائز/حدیث: 989]
اردو حاشہ:
1؎:
یہ حدیث اس با ت پر دلالت کرتی ہے کہ مسلمان میت کو بوسہ لینا اور اس پر رونا جائز ہے، رہیں وہ احادیث جن میں رونے سے منع کیا گیا ہے تو وہ ایسے رونے پر محمول کی جائیں گی جس میں بین اور نوحہ ہو۔

نوٹ:

(ملاحظہ ہو: تراجع الألبانی 495)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 989 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3163 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´میت کو بوسہ دینا۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عثمان بن مظعون ۱؎ رضی اللہ عنہ کو بوسہ لیتے ہوئے دیکھا ہے، ان کا انتقال ہو چکا تھا، میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3163]
فوائد ومسائل:
مسلمان کبھی بھی نجس نہیں ہوتا۔
زندگی میں نہ موت کے بعد اور اپنی محبوب میت کو بوسہ دینا کسی طرح معیوب نہیں ہے۔
اور اس کے غم میں آنسئووں کا نکل آنا ایک فطری بات ہے۔
اس میں کوئی حرج نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3163 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔