مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 1455
حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ تَوْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا قَزَعَةُ بْنُ سُوَيْدٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا حَضَرْتُمْ مَوْتَاكُمْ فَأَغْمِضُوا الْبَصَرَ ، فَإِنَّ الْبَصَرَ يَتْبَعُ الرُّوحَ ، وَقُولُوا خَيْرًا ، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُؤَمِّنُ عَلَى مَا قَالَ أَهْلُ الْبَيْتِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم اپنے مردوں کے پاس جاؤ تو ان کی آنکھیں بند کر دو ، اس لیے کہ آنکھ روح کا پیچھا کرتی ہے ، اور ( میت کے پاس ) اچھی بات کہو ، کیونکہ فرشتے گھر والوں کی بات پر آمین کہتے ہیں “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1455
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, قزعة بن سويد: ضعيف (تقريب: 5546) وقال الھيثمي: و ضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 6/ 245), والحديث السابق (الأصل: 1454) يغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 429

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´(روح قبض ہو جانے کے بعد) میت کی آنکھیں بند کر دینے کا بیان۔`
شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم اپنے مردوں کے پاس جاؤ تو ان کی آنکھیں بند کر دو، اس لیے کہ آنکھ روح کا پیچھا کرتی ہے، اور (میت کے پاس) اچھی بات کہو، کیونکہ فرشتے گھر والوں کی بات پر آمین کہتے ہیں۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1455]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے۔
اور مزید لکھتے ہیں کہ گزشتہ حدیث اس سے کفایت کرتی ہے۔
نیز دیگر محققین نے بھی اسے صحیح قرار دیا ہے۔
تفصیل کے لئے دیکھئے: (الموسوعة الحدیثیة مسند الإمام أحمد: 360/28)
لہٰذا مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد کی وجہ سے قابل عمل اور قابل حجت ہے۔

(2)
وفات کے بعد میت کا ذکر اچھے انداز میں کرنا چاہیے۔
اور اس کے حق میں دعائے خیر کرنی چاہیے۔
مثلاً یوں کہنا چاہیے کہ اللہ اس پر رحمت کرے۔
اسے معاف کرے۔
اللہ اسے جنت دے۔
اس کے بارے میں نامناسب باتیں کرنے اور اس کے عیب بیان کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔
اسی طرح پسماندگان کے بارے میں بھی اچھی بات کہیں۔
مثلاً اللہ تمھیں صبر عطا فرمائے۔
اللہ آپ لوگوں کی مدد فرمائے۔
جیسے کہ حدیث 447 اور اس کے فوائد میں ذکر ہوا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1455 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔