حدیث نمبر: 1451
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا ، وَعِنْدَهَا حَمِيمٌ لَهَا يَخْنُقُهُ الْمَوْتُ ، فَلَمَّا رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بِهَا قَالَ لَهَا : " لَا تَبْتَئِسِي عَلَى حَمِيمِكِ ، فَإِنَّ ذَلِكَ مِنْ حَسَنَاتِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس گئے ، وہاں پر عائشہ رضی اللہ عنہا کے ایک رشتہ دار کا موت سے دم گھٹ رہا تھا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا کا رنج دیکھا تو ان سے فرمایا : ” تم اپنے رشتہ دار پر غم زدہ نہ ہو ، کیونکہ یہ اس کی نیکیوں میں سے ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1451
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, الوليد لم يصرح بالسماع المسلسل, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 429
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 17383 ، ومصباح الزجاجة : 514 ) ( ضعیف ) » ( اس کی سند میں ولید بن مسلم ہیں ، جو کثیر التدلیس و التسویہ ہیں ، گرچہ یہاں پر صیغہ تحدیث کا ہے ، لیکن رواة کے اسقاط سے تدلس التسویة کا احتمال باقی ہے کہ درمیان سے کوئی راوی ساقط کر دیا ہو ، ملاحظہ ہو : تہذب الکمال : 31/97 )