مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 1449
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ ، جَمِيعًا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ فُضَيْلٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : لَمَّا حَضَرَتْ كَعْبًا الْوَفَاةُ أَتَتْهُ أُمُّ بِشْرٍ بِنْتُ الْبَرَاءِ بْنِ مَعْرُورٍ ، فَقَالَتْ : " يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، إِنْ لَقِيتَ فُلَانًا فَاقْرَأْ عَلَيْهِ مِنِّي السَّلَامَ " ، قَالَ : غَفَرَ اللَّهُ لَكِ يَا أُمَّ بِشْرٍ ، نَحْنُ أَشْغَلُ مِنْ ذَلِكَ ، قَالَتْ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ أَرْوَاحَ الْمُؤْمِنِينَ فِي طَيْرٍ خُضْرٍ ، تَعْلُقُ فِي شَجَرِ الْجَنَّةِ " ، قَالَ : بَلَى ، قَالَتْ : فَهُوَ ذَاكَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک بیان کرتے ہیں کہ` جب ان کے والد کعب رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت آیا ، تو ان کے پاس ام بشر بنت براء بن معرور ( رضی اللہ عنہما ) آئیں ، اور کہنے لگیں : اے ابوعبدالرحمٰن ! اگر فلاں سے آپ کی ملاقات ہو تو ان کو میرا سلام کہیں ، کعب رضی اللہ عنہ نے کہا : اے ام بشر ! اللہ تمہیں بخشے ، ہمیں اتنی فرصت کہاں ہو گی کہ ہم لوگوں کا سلام پہنچاتے پھریں ، انہوں نے کہا : اے ابوعبدالرحمٰن ! کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے نہیں سنا : ” مومنوں کی روحیں سبز پرندوں کی صورت میں ہوں گی ، اور جنت کے درختوں سے کھاتی چرتی ہوں گی “ ، کعب رضی اللہ عنہ کہا : کیوں نہیں ، ضرور سنی ہے ، تو انہوں نے کہا : بس یہی مطلب ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1449
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, محمد بن إسحاق مدلس, ولم أجد تصريح سماعه, والحديث الآتي (الأصل: 4271) يغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 429
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : مسند الحميدي: 897

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´جانکنی کے وقت مریض کے پاس کیا دعا پڑھی جائے؟`
عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک بیان کرتے ہیں کہ جب ان کے والد کعب رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت آیا، تو ان کے پاس ام بشر بنت براء بن معرور (رضی اللہ عنہما) آئیں، اور کہنے لگیں: اے ابوعبدالرحمٰن! اگر فلاں سے آپ کی ملاقات ہو تو ان کو میرا سلام کہیں، کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ام بشر! اللہ تمہیں بخشے، ہمیں اتنی فرصت کہاں ہو گی کہ ہم لوگوں کا سلام پہنچاتے پھریں، انہوں نے کہا: اے ابوعبدالرحمٰن! کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے نہیں سنا: مومنوں کی روحیں سبز پرندوں کی صورت میں ہوں گی، اور جنت کے درختوں سے کھاتی چرتی ہوں گی۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1449]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے۔
اور مزید لکھا ہے کہ آئندہ آنے والی حدیث (4271)
اس سے کفایت کرتی ہے۔
لہٰذا موجودہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود قابل عمل اور قابل حجت ہے۔

(2)
میت کو جنت میں اس کے درجے کے مطابق نیا جسم مل جاتا ہے۔

(3)
جنت کی راحت اور جہنم کاعذاب مرنے کے بعد شروع ہوجاتا ہے۔

(4)
ان معاملات کا تعلق عالم غیب سے ہے۔
جو اس دنیا سے بالکل مختلف جہان ہے۔
اس کے حالات کو دنیا کے حالات کی روشنی میں سمجھنا ممکن نہیں۔
اس لئے جتنی بات قرآن وحدیث سے ثابت ہو۔
اس پر ایمان رکھنا چاہیے۔
اس کی کیفیت کی بحث میں نہیں پڑھنا چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1449 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 897 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
897- سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے اپنے والد کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں، جب ان کی وفات کا وقت قریب آیا، تو سیدہ ام مبشر رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: آپ مبشر کو میری طرف سے سلام کہیے گا تو سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اے ام مبشر! کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح ارشاد فرمایا ہے؟ تو اس خاتون نے عرض کی: مجھے نہیں معلوم میں بوڑھی ہوگئی ہوں، میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتی ہوں۔ تو سیدنا کعب رضی اللہ عنہ بولے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: مومن کی جان سبز پرندے کی شکل میں ہوتی ہے، جو جنت کے پھلوں کو کھاتی ہے۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:897]
فائدہ:
جنت برحق ہے، اور اس کی نعمتیں برحق ہیں، جو اللہ تعالیٰ نے مومنوں کے لیے تیار کی ہیں، سبز پرندوں کی شکل میں مومن کی روح ہوگی جہاں سے مرضی کھاتی پھرے گی، اور یہ حقیقت پر محمول ہے، دنیاوی سبز پرندوں کو مراد لینا غلط ہے، وہ تو جنتی پرندے ہوں گے، سبحان اللہ۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 896 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔