حدیث نمبر: 1446
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ ، سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ، الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ لِلْأَحْيَاءِ ؟ ، قَالَ : " أَجْوَدُ وَأَجْوَدُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنے مردوں ( جو لوگ مرنے کے قریب ہوں ) کو یہ کہنے کی تلقین کرو : «لا إله إلا الله الحليم الكريم سبحان الله رب العرش العظيم الحمد لله رب العالمين» کی تلقین کرو “ ( ترجمہ ) ” اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ، جو حلیم و کریم والا ہے ، اللہ تعالیٰ کی ذات پاک ہے جو عرش عظیم کا رب ہے ، تمام حمد و ثنا اللہ تعالیٰ کو لائق و زیبا ہے جو سارے جہاں کا رب ہے “ لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! یہ دعا زندوں کے لیے کیسی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بہت بہتر ہے ، بہت بہتر ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / حدیث: 1446
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, إسحاق بن عبد اللّٰه بن جعفر: مستور (تقريب: 464), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 428
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 5213 ، ومصباح الزجاجة : 512 ) ( ضعیف ) » ( اس کی سند میں اسحاق بن عبد اللہ مجہول الحال ہیں ، ویسے حدیث کا یہ جملہ «لقنوا موتاكم» صحیح ہے ، جیسا کہ اس سے پہلے والی حدیثوں میں گزرا ہے ، ملاحظہ ہو : 4317 )