سنن ابن ماجه
باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم— رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے فضائل و مناقب
بَابُ : فَضْلِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ ابْنَيْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ باب: علی رضی اللہ عنہ کے بیٹوں حسن و حسین رضی اللہ عنہما کے مناقب و فضائل۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ ، أَنَّ يَعْلَى بْنَ مُرَّةَ ، حَدَّثَهُمْ أَنَّهُمْ خَرَجُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى طَعَامٍ دُعُوا لَهُ ، فَإِذَا حُسَيْنٌ يَلْعَبُ فِي السِّكَّةِ ، قَالَ : فَتَقَدَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَامَ الْقَوْمِ وَبَسَطَ يَدَيْهِ ، فَجَعَلَ الْغُلَامُ يَفِرُّ هَهُنَا وَهَهُنَا وَيُضَاحِكُهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى أَخَذَهُ فَجَعَلَ إِحْدَى يَدَيْهِ تَحْتَ ذَقْنِهِ ، وَالْأُخْرَى فِي فَأْسِ رَأْسِهِ فَقَبَّلَهُ ، وَقَالَ : " حُسَيْنٌ مِنِّي وَأَنَا مِنْ حُسَيْنٍ ، أَحَبَّ اللَّهُ مَنْ أَحَبَّ حُسَيْنًا ، حُسَيْنٌ سِبْطٌ مِنَ الْأَسْبَاطِ " .
´یعلیٰ بن مرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ` ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانے کی ایک دعوت میں نکلے ، دیکھا تو حسین رضی اللہ عنہ ) گلی میں کھیل رہے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے آگے نکل گئے ، اور اپنے دونوں ہاتھ پھیلا لیے ، حسین رضی اللہ عنہ بچے تھے ، ادھر ادھر بھاگنے لگے ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کو ہنسانے لگے ، یہاں تک کہ ان کو پکڑ لیا ، اور اپنا ایک ہاتھ ان کی ٹھوڑی کے نیچے اور دوسرا سر پر رکھ کر بوسہ لیا ، اور فرمایا : ” حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں ، اللہ اس سے محبت رکھے جو حسین سے محبت رکھے ، اور حسین نواسوں میں سے ایک نواسہ ہیں “ ۱؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
یعلیٰ بن مرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانے کی ایک دعوت میں نکلے، دیکھا تو حسین رضی اللہ عنہ) گلی میں کھیل رہے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے آگے نکل گئے، اور اپنے دونوں ہاتھ پھیلا لیے، حسین رضی اللہ عنہ بچے تھے، ادھر ادھر بھاگنے لگے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کو ہنسانے لگے، یہاں تک کہ ان کو پکڑ لیا، اور اپنا ایک ہاتھ ان کی ٹھوڑی کے نیچے اور دوسرا سر پر رکھ کر بوسہ لیا، اور فرمایا: ” حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں، اللہ اس سے محبت رکھے جو۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 144]
اگر کوئی کھانے کی دعوت دے تو قبول کرنا مسنون ہے۔
(2)
چھوٹے بچے گلی میں کھیلیں تو جائز ہے۔
(3)
اظہار محبت کے لیے بچے کو تھامنا، چہرے کو بوسا دینا سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔
(4)
سبط کے معنی نواسہ ہیں مگر اس کا اطلاق قبیلے پر بھی ہوتا ہے۔
اس سے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی عظمت ظاہر کرنا مقصود ہے کہ وہ اکیلے ہی ایک قبیلے کی سی شان کے حامل ہیں۔
جیسا کہ ارشاد الہی ہے کہ ’’حضرت ابراہیم علیہ السلام اکیلے ہی ایک امت کی سی شان رکھتے ہیں۔‘‘ (النحل: 120)
«. . . عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: حُسَيْنٌ مِنِّي وَأَنَا مِنْ حُسَيْنٍ , أَحَبَّ اللَّهُ مَنْ أَحَبَّ حُسَيْنًا، حُسَيْنٌ سِبْطٌ مِنَ الْأَسْبَاطِ . . .»
”. . . یعلیٰ بن مرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں، اللہ اس شخص سے محبت کرتا ہے جو حسین سے محبت کرتا ہے، حسین قبائل میں سے ایک قبیلہ ہیں . . .“ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/باب مَنَاقِبِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ: 3775]
[مسند الإمام أحمد:172/4، الأدب المفرد للبخاري:364، سنن الترمذي: 3775، وقال: حسن، سنن ابن ماجة:144، المعجم الكبير للطبراني: 274/22، ح: 702، المستدرك للحاكم: 194/3،ح: 4820، وسنده حسن]
تبصرہ:
↰اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ [6971] نے ’’صحیح“ اور امام حاکم رحمہ اللہ نے ’’صحیح الاسناد“ کہا ہے۔
حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے بھی اسے ’’صحیح“ قرار دیا ہے۔
❀ ایک روایت میں «حسين مني، وأنا من حسين» کے الفاظ بھی ہیں۔
یعلیٰ بن مرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں ۱؎ اللہ اس شخص سے محبت کرتا ہے جو حسین سے محبت کرتا ہے، حسین قبائل میں سے ایک قبیلہ ہیں “ ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3775]
وضاحت:
1؎:
بقول قاضی عیاض: اللہ کے رسول ﷺ من جانب اللہ مطلع کر دیئے گئے تھے کہ کچھ لوگ حسین ؓ سے بغض رکھیں گے اس لیے آپﷺ نے پیشگی بیان کر دیا کہ ’’حسین ؓ سے محبت مجھ سے محبت ہے، اورحسین ؓ سے دشمنی مجھ سے دشمنی ہے کیونکہ ہم دونوں ایک ہی ہیں۔
2؎:
یعنی: حسین ؓ کی بہت ہی زیادہ اولاد ہوگی، یعنی ان کی نسل خوب پھیلے گی کہ قبائل بن جائیں گے، سو ایسا ہی ہوا۔