سنن ابن ماجه
كتاب الجنائز— کتاب: صلاۃ جنازہ کے احکام و مسائل
بَابُ : مَا جَاءَ فِي عِيَادَةِ الْمَرِيضِ باب: مریض کی عیادت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1438
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ السَّكُونِيُّ ، عَنْ مُوسَى بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا دَخَلْتُمْ عَلَى الْمَرِيضِ ، فَنَفِّسُوا لَهُ فِي الْأَجَلِ ، فَإِنَّ ذَلِكَ لَا يَرُدُّ شَيْئًا ، وَهُوَ يَطِيبُ بِنَفْسِ الْمَرِيضِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم مریض کے پاس جاؤ ، تو اسے لمبی عمر کی امید دلاؤ ، اس لیے کہ ایسا کہنے سے تقدیر نہیں پلٹتی ، لیکن بیمار کا دل خوش ہوتا ہے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2087 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´مریض کی عیادت سے متعلق ایک اور باب۔`
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب تم مریض کے پاس جاؤ تو موت کے سلسلے میں اس کا غم دور کرو ۱؎ یہ تقدیر تو نہیں بدلتا ہے لیکن مریض کا دل خوش کر دیتا ہے۔“ [سنن ترمذي/كتاب الطب عن رسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2087]
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب تم مریض کے پاس جاؤ تو موت کے سلسلے میں اس کا غم دور کرو ۱؎ یہ تقدیر تو نہیں بدلتا ہے لیکن مریض کا دل خوش کر دیتا ہے۔“ [سنن ترمذي/كتاب الطب عن رسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2087]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی اس کے لیے درازی عمر اور صحت یابی کی دعا کرو۔
نوٹ:
(سند میں موسیٰ بن محمد بن ابراہیم تیمي منکر الحدیث راوی ہے)
وضاحت:
1؎:
یعنی اس کے لیے درازی عمر اور صحت یابی کی دعا کرو۔
نوٹ:
(سند میں موسیٰ بن محمد بن ابراہیم تیمي منکر الحدیث راوی ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2087 سے ماخوذ ہے۔