سنن ابن ماجه
كتاب الجنائز— کتاب: صلاۃ جنازہ کے احکام و مسائل
بَابُ : مَا جَاءَ فِي عِيَادَةِ الْمَرِيضِ باب: مریض کی عیادت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1434
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ أَفْلَحَ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لِلْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ أَرْبَعُ خِلَالٍ : يُشَمِّتُهُ إِذَا عَطَسَ ، وَيُجِيبُهُ إِذَا دَعَاهُ ، وَيَشْهَدُهُ إِذَا مَاتَ ، وَيَعُودُهُ إِذَا مَرِضَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابومسعود ( عقبہ بن عمرو ) انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چار حقوق ہیں : جب اسے چھینک آئے اور وہ «الحمدلله» کہے تو اس کے جواب میں «يرحمك الله» کہے ، جب وہ دعوت دے تو اس کی دعوت کو قبول کرے ، جب اس کا انتقال ہو جائے تو اس کے جنازہ میں حاضر ہو ، اور جب بیمار ہو جائے تو اس کی عیادت کرے “ ۔