سنن ابن ماجه
كتاب إقامة الصلاة والسنة— کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
. بَابُ : مَا جَاءَ فِي كَثْرَةِ السُّجُودِ باب: کثرت سے سجدہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1424
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ الْمُرِّيِّ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ ، عَنْ الصُّنَابِحِيِّ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا حَسَنَةً ، وَمَحَا عَنْهُ بِهَا سَيِّئَةً ، وَرَفَعَ لَهُ بِهَا دَرَجَةً ، فَاسْتَكْثِرُوا مِنَ السُّجُودِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” جو کوئی بندہ اللہ تعالیٰ کے لیے ایک سجدہ کرے گا ، اللہ اس کے بدلے ایک نیکی لکھے گا ، اور اس کا ایک گناہ مٹا دے گا ، اور اس کا ایک درجہ بلند فرمائے گا ، لہٰذا تم کثرت سے سجدے کرو “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´کثرت سے سجدہ کرنے کا بیان۔`
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ” جو کوئی بندہ اللہ تعالیٰ کے لیے ایک سجدہ کرے گا، اللہ اس کے بدلے ایک نیکی لکھے گا، اور اس کا ایک گناہ مٹا دے گا، اور اس کا ایک درجہ بلند فرمائے گا، لہٰذا تم کثرت سے سجدے کرو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1424]
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ” جو کوئی بندہ اللہ تعالیٰ کے لیے ایک سجدہ کرے گا، اللہ اس کے بدلے ایک نیکی لکھے گا، اور اس کا ایک گناہ مٹا دے گا، اور اس کا ایک درجہ بلند فرمائے گا، لہٰذا تم کثرت سے سجدے کرو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1424]
اردو حاشہ:
فائدہ: بکثرت سجدہ کرنے میں سنت اور نفل نمازوں کی ادایئگی بھی شامل ہے اور سجدہ شکر سجدہ تلاوت وغیرہ کی کثرت بھی۔
فائدہ: بکثرت سجدہ کرنے میں سنت اور نفل نمازوں کی ادایئگی بھی شامل ہے اور سجدہ شکر سجدہ تلاوت وغیرہ کی کثرت بھی۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1424 سے ماخوذ ہے۔