سنن ابن ماجه
كتاب إقامة الصلاة والسنة— کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
. بَابُ : مَا جَاءَ فِي كَثْرَةِ السُّجُودِ باب: کثرت سے سجدہ کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو أَبُو عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ هِشَامٍ الْمُعَيْطِيُّ ، حَدَّثَهُ مَعْدَانُ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيُّ ، قَالَ : لَقِيتُ ثَوْبَانَ ، فَقُلْتُ لَهُ : حَدِّثْنِي حَدِيثًا عَسَى اللَّهُ أَنْ يَنْفَعَنِي بِهِ ، قَالَ : فَسَكَتَ ، ثُمَّ عُدْتُ فَقُلْتُ مِثْلَهَا : فَسَكَتَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَقَالَ لِي : عَلَيْكَ بِالسُّجُودِ لِلَّهِ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً ، وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً " ، قَالَ مَعْدَانُ : ثُمَّ لَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ ، فَسَأَلْتُهُ : فَقَالَ : مِثْلَ ذَلِكَ .
´معدان بن ابی طلحہ یعمری کہتے ہیں کہ` میں ثوبان رضی اللہ عنہ سے ملا ، اور ان سے کہا : آپ مجھ سے کوئی حدیث بیان کریں ، امید ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس سے فائدہ دے گا ، یہ سن کر وہ خاموش رہے ، پھر میں نے دوبارہ وہی بات کہی ، تو بھی وہ خاموش رہے ، تین بار ایسا ہی ہوا ، پھر انہوں نے کہا : تم اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کے لیے سجدہ لازم کر لو ، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو بندہ اللہ تعالیٰ کے لیے ایک سجدہ کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس کا ایک درجہ بلند کرتا ہے ، اور ایک گناہ مٹا دیتا ہے “ ۔ معدان کہتے ہیں کہ پھر میں ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے ملا ، اور ان سے پوچھا تو انہوں نے بھی ایسا ہی بیان کیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
معدان بن طلحہ یعمری کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ثوبان رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی، تو میں نے کہا: مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو مجھے فائدہ پہنچائے، یا مجھے جنت میں داخل کرے، وہ تھوڑی دیر خاموش رہے پھر میری طرف متوجہ ہوئے، اور کہنے لگے: تم سجدوں کو لازم پکڑو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ” جب بندہ اللہ تعالیٰ کے لیے ایک سجدہ کرتا ہے تو اللہ عزوجل اس کے بدلے، اس کا ایک درجہ بلند کرتا ہے، اور ایک گناہ مٹا دیتا ہے۔“ معدان کہتے ہیں: پھر میں ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے ملا اور میں نے ان سے وہی سوال کیا جو ثوبان رضی اللہ عنہ سے کر چکا تھا، تو انہوں نے بھی مجھ سے یہی کہا: تم سجدوں کو لازم پکڑو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ ” جب بندہ اللہ تعالیٰ کے لیے ایک سجدہ کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس کا ایک درجہ بلند کرتا ہے، اور ایک گناہ مٹا دیتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1140]
➋ عالم دین کو سوال کا جواب دینے میں جلدی نہیں کرنی چاہیے بلکہ پہلے سوچنا چاہیے۔ جب دلائل مستحضر ہوں تب جواب دے۔