حدیث نمبر: 1422
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيَّانِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ ، أَنَّ أَبَا فَاطِمَةَ حَدَّثَهُ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ أَسْتَقِيمُ عَلَيْهِ وَأَعْمَلُهُ ، قَالَ : " عَلَيْكَ بِالسُّجُودِ ، فَإِنَّكَ لَا تَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً ، إِلَّا رَفَعَكَ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً ، وَحَطَّ بِهَا عَنْكَ خَطِيئَةً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوفاطمہ رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ` میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے ایسا عمل بتائیے جس پر میں جما رہوں اور اس کو کرتا رہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اپنے اوپر سجدے کو لازم کر لو ، اس لیے کہ جب بھی تم کوئی سجدہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے تمہارا ایک درجہ بلند کرے گا ، اور ایک گناہ مٹا دے گا “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 1422
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 12078 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 5/276 ، 280 ) ( حسن صحیح ) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´کثرت سے سجدہ کرنے کا بیان۔`
ابوفاطمہ رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے ایسا عمل بتائیے جس پر میں جما رہوں اور اس کو کرتا رہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے اوپر سجدے کو لازم کر لو، اس لیے کہ جب بھی تم کوئی سجدہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے تمہارا ایک درجہ بلند کرے گا، اور ایک گناہ مٹا دے گا۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1422]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
  نماز کے تمام اعمال ہی اللہ کے قرب کا باعث ہیں۔
لیکن سجدے کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔
کیونکہ یہ اللہ کے سامنے عاجزی کا سب سے بڑا مظہر ہے۔
اور یہ عجز ہی عبادت کی روح ہے۔

(2)
طویل قیام کی فضیلت تلاوت قرآن کی وجہ سے ہے۔
اورسجدے کی فضیلت عجزو نیاز کی وجہ سے اس لئے طویل سجدہ بھی ایک عظیم عمل ہے۔
جیسے کہ احادیث میں ر سول اللہﷺ کے طویل سجدوں کا بھی ذکر ہے۔
دیکھئے: (سنن نسائي، التطبیق، باب ھل یجوز أن تکون سجدۃ أطول من سجدۃ، حدیث: 1142)

(3)
سجدے سے درجات بھی بلند ہوتے ہیں۔
اور گناہ بھی معاف ہوتے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1422 سے ماخوذ ہے۔