سنن ابن ماجه
كتاب إقامة الصلاة والسنة— کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
. بَابُ : مَا جَاءَ فِي طُولِ الْقِيَامِ فِي الصَّلاَةِ باب: نماز میں قیام لمبا کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1420
حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُصَلِّي حَتَّى تَوَرَّمَتْ قَدَمَاهُ ، فَقِيلَ لَهُ : إِنَّ اللَّهَ قَدْ غَفَرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ ، قَالَ : " أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے یہاں تک کہ آپ کے پاؤں سوج جاتے ، آپ سے عرض کیا گیا : اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے اور پچھلے سارے گناہ معاف کر دئیے ہیں ( پھر آپ اتنی مشقت کیوں اٹھاتے ہیں ) ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں “ ۱؎ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 1420
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 1646
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 1646 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´شب بیداری کے سلسلے میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت میں راویوں کے اختلاف کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے تھے یہاں تک کہ آپ کے دونوں پاؤں پھٹ جاتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1646]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے تھے یہاں تک کہ آپ کے دونوں پاؤں پھٹ جاتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1646]
1646۔ اردو حاشیہ: سوچنے کے بعد پھٹنے کا مقام، یعنی آخر آنا ہی تھا، مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں سستی کا احساس راہ نہیں پاتا تھا۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1646 سے ماخوذ ہے۔