سنن ابن ماجه
كتاب إقامة الصلاة والسنة— کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
. بَابُ : مَا جَاءَ فِي طُولِ الْقِيَامِ فِي الصَّلاَةِ باب: نماز میں قیام لمبا کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1418
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " صَلَّيْتُ ذَاتَ لَيْلَةٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ يَزَلْ قَائِمًا ، حَتَّى هَمَمْتُ بِأَمْرِ سَوْءٍ ، قُلْتُ : وَمَا ذَاكَ الْأَمْرُ ؟ ، قَالَ : هَمَمْتُ أَنْ أَجْلِسَ وَأَتْرُكَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ایک رات میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ، آپ برابر کھڑے رہے یہاں تک کہ میں نے ایک برے کام کا ارادہ کر لیا ، ( راوی ابووائل کہتے ہیں : ) میں نے پوچھا : وہ کیا ؟ کہا : میں نے یہ ارادہ کر لیا کہ میں بیٹھ جاؤں ، اور آپ کو ( کھڑا ) چھوڑ دوں ۔
وضاحت:
نماز تہجد باجماعت جائز ہے۔ نماز تہجد میں طویل قرات افضل ہے۔ شاگردوں کو تربیت دینے کے لیے ان سے مشکل کام کروانا جائز ہے اگرچہ اس میں مشقت ہو۔ استاد کا خود نیک عمل کرنا شاگردوں کو اس کا شوق دلاتا اور ہمت پیدا کرتا ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نیک کا اس قدر شوق رکھتے تھے کہ افضل کام کو چھوڑ کر جائز کام اختیار کرنے کو انہوں نے برا کام قرار دیا۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 1418
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 1135 | صحيح مسلم: 773
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´نماز میں قیام لمبا کرنے کا بیان۔`
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک رات میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، آپ برابر کھڑے رہے یہاں تک کہ میں نے ایک برے کام کا ارادہ کر لیا، (راوی ابووائل کہتے ہیں:) میں نے پوچھا: وہ کیا؟ کہا: میں نے یہ ارادہ کر لیا کہ میں بیٹھ جاؤں، اور آپ کو (کھڑا) چھوڑ دوں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1418]
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک رات میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، آپ برابر کھڑے رہے یہاں تک کہ میں نے ایک برے کام کا ارادہ کر لیا، (راوی ابووائل کہتے ہیں:) میں نے پوچھا: وہ کیا؟ کہا: میں نے یہ ارادہ کر لیا کہ میں بیٹھ جاؤں، اور آپ کو (کھڑا) چھوڑ دوں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1418]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
نماز تہجد باجماعت جائز ہے۔
(2)
نماز تہجد میں طویل قراءت افضل ہے۔
(3)
شاگردوں کو تربیت دینے کےلئے ان سے مشکل کام کروانا جائز ہے۔
اگرچہ اس میں مشقت نہ ہو۔
(4)
استاد کا خود نیک عمل کرنا شاگردوں کو اس کا شوق دلاتا اور ہمت پیدا کرتا ہے۔
(5)
صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین نیکی کا اس قدر شوق رکھتے تھے۔
کہ افضل کام کو چھوڑ کر جائز کام اختیار کرکے انھوں نے بُرا کام قرار دیا۔
(6)
حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ارادہ نبی کریمﷺ کی اقتدا میں نمازادا کرنے کا تھا۔
اب اتباع اور محبت کا تقاضا ہے۔
کہ اس نیکی میں آخر تک ساتھ دیا جائے۔
اس لئے بیٹھ جانے کو انھوں نے بُرا سمجھا۔
کہ یہ محبت کےتقاضے کے خلاف ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
نماز تہجد باجماعت جائز ہے۔
(2)
نماز تہجد میں طویل قراءت افضل ہے۔
(3)
شاگردوں کو تربیت دینے کےلئے ان سے مشکل کام کروانا جائز ہے۔
اگرچہ اس میں مشقت نہ ہو۔
(4)
استاد کا خود نیک عمل کرنا شاگردوں کو اس کا شوق دلاتا اور ہمت پیدا کرتا ہے۔
(5)
صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین نیکی کا اس قدر شوق رکھتے تھے۔
کہ افضل کام کو چھوڑ کر جائز کام اختیار کرکے انھوں نے بُرا کام قرار دیا۔
(6)
حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ارادہ نبی کریمﷺ کی اقتدا میں نمازادا کرنے کا تھا۔
اب اتباع اور محبت کا تقاضا ہے۔
کہ اس نیکی میں آخر تک ساتھ دیا جائے۔
اس لئے بیٹھ جانے کو انھوں نے بُرا سمجھا۔
کہ یہ محبت کےتقاضے کے خلاف ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1418 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 1135 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
1135. حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے ایک رات نبی ﷺ کے ہمراہ تہجد پڑھی تو آپ کافی دیر کھڑے رہے حتی کہ میری نیت بگڑ گئی۔ ہم نے دریافت کیا: آپ کے دل میں کیا برا خیال آیا؟ انہوں نے فرمایا: میں نے یہ ارادہ کیا تھا کہ نبی ﷺ کو بحالت قیام چھوڑ کر خود بیٹھ جاؤں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:1135]
حدیث حاشیہ: یہ ایک وسوسہ تھا جو حضرت ابن مسعود ؓ کے دل میں آیاتھا مگر وہ فوراً سنبھل کر اس وسوسہ سے باز آگئے۔
حدیث سے یہ نکلا کہ رات کی نماز میں آپ بہت لمبی قرات کیا کرتے تھے۔
حدیث سے یہ نکلا کہ رات کی نماز میں آپ بہت لمبی قرات کیا کرتے تھے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1135 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 1135 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
1135. حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے ایک رات نبی ﷺ کے ہمراہ تہجد پڑھی تو آپ کافی دیر کھڑے رہے حتی کہ میری نیت بگڑ گئی۔ ہم نے دریافت کیا: آپ کے دل میں کیا برا خیال آیا؟ انہوں نے فرمایا: میں نے یہ ارادہ کیا تھا کہ نبی ﷺ کو بحالت قیام چھوڑ کر خود بیٹھ جاؤں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:1135]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ نماز تہجد میں لمبا قیام کرتے تھے، کیونکہ عبداللہ بن مسعود ؓ نے طاقتور ہونے کے باوجود دوران قیام میں بیٹھ جانے کا ارادہ کیا۔
اس کا مطلب واضح ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا قیام کافی لمبا تھا۔
اس کے علاوہ رسول اللہ ﷺ نے طویل قنوت کو افضل نماز قرار دیا ہے۔
جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے۔
(صحیح مسلم، صلاة المسافرین، حدیث: 1768(756)
ممکن ہے کہ حدیث میں طویل قنوت سے مراد طول خشوع ہے۔
صحابۂ کرام ؓ رکوع و سجود کی کثرت کو افضل خیال کرتے تھے، جیسا کہ ایک اور حدیث میں ہے کہ کثرت سجود ایک فضیلت والا عمل ہے۔
(صحیح مسلم، الصلاة، حدیث: 1093(488) (2)
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اعمال نماز میں امام کی مخالفت برا عمل ہے۔
اگرچہ عبداللہ بن مسعود ؓ کو شرعاً بیٹھنے کی اجازت تھی لیکن بزرگوں کا احترام اور ادب اس سے مقدم ہے۔
واللہ أعلم۔
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ نماز تہجد میں لمبا قیام کرتے تھے، کیونکہ عبداللہ بن مسعود ؓ نے طاقتور ہونے کے باوجود دوران قیام میں بیٹھ جانے کا ارادہ کیا۔
اس کا مطلب واضح ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا قیام کافی لمبا تھا۔
اس کے علاوہ رسول اللہ ﷺ نے طویل قنوت کو افضل نماز قرار دیا ہے۔
جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے۔
(صحیح مسلم، صلاة المسافرین، حدیث: 1768(756)
ممکن ہے کہ حدیث میں طویل قنوت سے مراد طول خشوع ہے۔
صحابۂ کرام ؓ رکوع و سجود کی کثرت کو افضل خیال کرتے تھے، جیسا کہ ایک اور حدیث میں ہے کہ کثرت سجود ایک فضیلت والا عمل ہے۔
(صحیح مسلم، الصلاة، حدیث: 1093(488) (2)
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اعمال نماز میں امام کی مخالفت برا عمل ہے۔
اگرچہ عبداللہ بن مسعود ؓ کو شرعاً بیٹھنے کی اجازت تھی لیکن بزرگوں کا احترام اور ادب اس سے مقدم ہے۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1135 سے ماخوذ ہے۔