حدیث نمبر: 1411
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَبْرَدِ مَوْلَى بَنِي خَطْمَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أُسَيْدَ بْنَ ظُهَيْرٍ الْأَنْصَارِيَّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِ قُبَاءَ كَعُمْرَةٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اسید بن ظہیر انصاری رضی اللہ عنہ ( جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے تھے ) کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مسجد قباء میں نماز پڑھنا ایک عمرہ کے برابر ہے “ ۱؎ ۔

وضاحت:
: ۱؎ مسجد قباء: ایک مشہور مسجد ہے، جو مسجد نبوی سے تھوڑے سے فاصلہ پر واقع ہے، رسول اکرم ﷺ جب ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے، تو سب سے پہلے اس مسجد کی بنیاد رکھی، اور مسلسل چار دن تک اسی مسجد میں نماز پڑھتے رہے، اور مسجد نبوی کے بننے کے بعد بھی آپ ﷺ مسجد قباء تشریف لے جاتے، اور وہاں نماز پڑھتے، نیز قرآن کریم میں اس کے متعلق یوں مذکور ہے: «لمسجد أسس على التقوى من أول يوم أحق أن تقوم فيه» جو مسجد (نبی اکرم ﷺ کے مدینہ آمد کے وقت) اوّل روز سے تقویٰ پر قائم کی گئی تھی وہی اس بات کی زیادہ مستحق ہے کہ آپ اس میں عبادت کے لیے کھڑے ہوں (سورة التوبة: 108)، اور متعدد احادیث میں اس کی فضیلت آئی ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 1411
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الصلاة 126 ( 324 ) ، ( تحفة الأشراف : 155 ) ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 324

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´مسجد قباء میں نماز کی فضیلت۔`
اسید بن ظہیر انصاری رضی اللہ عنہ (جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے تھے) کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسجد قباء میں نماز پڑھنا ایک عمرہ کے برابر ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1411]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مسجد قباء وہ مسجد ہے۔
جو ہجرت کے بعد سب سے پہلے تعمیر ہوئی۔
نبی اکرمﷺ مدینے پہنچنے سے پہلے چند روزقباء میں تشریف فرما رہے اوروہاں مسجد کی بنیاد رکھی۔
نبی اکرم ﷺ ہفتے میں ایک بار وہاں جا کر نماز پڑھا کرتے تھے۔ (صحیح بخاري، فضل الصلاۃ فی مسجد مکة والمدینة، باب من اتی مسجد قباء کل سبت، حدیث: 1193)

(2)
مدینہ میں قیام کے دوران میں مسجد قباء کی زیارت کے لئے جانا چاہیے۔
تاکہ عمرے کا ثواب حاصل ہو۔
اور نبی اکرمﷺ کی اتباع کا ثواب مل جائے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1411 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 324 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´مسجد قباء میں نماز کی فضیلت کا بیان۔`
اسید بن ظہیر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسجد قباء میں نماز پڑھنے کا ثواب ایک عمرہ کے برابر ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 324]
اردو حاشہ:
1؎:
یعنی مسجد قباء میں ایک نماز پڑھنے کا ثواب ایک عمرہ کے ثواب کے برابر ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 324 سے ماخوذ ہے۔