حدیث نمبر: 141
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ اتَّخَذَنِي خَلِيلًا كَمَا اتَّخَذَ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا ، فَمَنْزِلِي وَمَنْزِلُ إِبْرَاهِيمَ فِي الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تُجَاهَيْنِ ، وَالْعَبَّاسُ بَيْنَنَا مُؤْمِنٌ بَيْنَ خَلِيلَيْنِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا خلیل ( گہرا دوست ) بنایا ہے ، جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل ( گہرا دوست ) بنایا ، چنانچہ میرا اور ابراہیم کا گھر جنت میں قیامت کے دن آمنے سامنے ہو گا ، اور عباس ہم دو خلیلوں کے مابین ایک مومن ہوں گے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 141
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: موضوع , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده موضوع, عبد الوهاب بن الضحاك بن أبان: متروك،كذبه أبو حاتم (تقريب: 4257), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 380
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 8914 ، ومصباح الزجاجة : 53 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 2/158 ، 225 ) ( موضوع ) » ( سند میں مذکور عبدالوہاب بن ضحاک متہم بالوضع راوی ہے ، اس لئے یہ حدیث موضوع ہے ، لیکن حدیث کا یہ ٹکڑا «إن الله اتخذني» صحیح ہے ، جیسا کہ حدیث نمبر ( 93 ) میں مذکور ہے ، نیز تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الضعیفة ، للالبانی : 3034 )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔`
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا خلیل (گہرا دوست) بنایا ہے، جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل (گہرا دوست) بنایا، چنانچہ میرا اور ابراہیم کا گھر جنت میں قیامت کے دن آمنے سامنے ہو گا، اور عباس ہم دو خلیلوں کے مابین ایک مومن ہوں گے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 141]
اردو حاشہ:
حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے فضائل میں یہاں منقول دونوں حدیثیں صحیح نہیں ہیں، تاہم وہ ایک جلیل القدر صحابی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عم بزرگوار ہیں۔
یہ شرف و اعزاز بھی کچھ کم نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 141 سے ماخوذ ہے۔