سنن ابن ماجه
كتاب إقامة الصلاة والسنة— کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
. بَابُ : مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ فِي مَسْجِدِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ باب: بیت المقدس میں نماز پڑھنے کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 1407
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقِّيُّ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي سَوْدَةَ ، عَنْ أَخِيهِ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سَوْدَةَ ، عَنْ مَيْمُونَةَ مَوْلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفْتِنَا فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ ، قَالَ : " أَرْضُ الْمَحْشَرِ وَالْمَنْشَرِ ، ائْتُوهُ فَصَلُّوا فِيهِ ، فَإِنَّ صَلَاةً فِيهِ كَأَلْفِ صَلَاةٍ فِي غَيْرِهِ " ، قُلْتُ : أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ أَتَحَمَّلَ إِلَيْهِ ، قَالَ : " فَتُهْدِي لَهُ زَيْتًا يُسْرَجُ فِيهِ ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَهُوَ كَمَنْ أَتَاهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی لونڈی میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` میں نے عرض کیا : ” اللہ کے رسول ! ہم کو بیت المقدس کا مسئلہ بتائیے “ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ تو حشر و نشر کی زمین ہے ، وہاں جاؤ اور نماز پڑھو ، اس لیے کہ اس میں ایک نماز دوسری مسجدوں کی ہزار نماز کی طرح ہے “ میں نے عرض کیا : اگر وہاں تک جانے کی طاقت نہ ہو ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو تم تیل بھیج دو جسے وہاں کے چراغوں میں جلایا جائے ، جس نے ایسا کیا گویا وہ وہاں گیا “ ۔