سنن ابن ماجه
كتاب إقامة الصلاة والسنة— کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
. بَابُ : مَا جَاءَ فِي صَلاَةِ الضُّحَى باب: صلاۃ الضحیٰ (چاشت کی نماز) کا بیان۔
حدیث نمبر: 1382
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ النَّهَّاسِ بْنِ قَهْمٍ ، عَنْ شَدَّادٍ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَافَظَ عَلَى شُفْعَةِ الضُّحَى ، غُفِرَتْ لَهُ ذُنُوبُهُ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص نماز الضحی ( چاشت ) کی دو رکعتوں پر محافظت کرے گا ، اس کے گناہ بخش دئیے جائیں گے ، خواہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 476 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´صلاۃ الضحی (چاشت کی نماز) کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے چاشت کی دو رکعتوں کی محافظت کی، اس کے گناہ بخش دیئے جائیں گے، اگرچہ وہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں۔“ [سنن ترمذي/أبواب الوتر/حدیث: 476]
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے چاشت کی دو رکعتوں کی محافظت کی، اس کے گناہ بخش دیئے جائیں گے، اگرچہ وہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں۔“ [سنن ترمذي/أبواب الوتر/حدیث: 476]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں نہاس بن قہم ضعیف راوی ہے)
نوٹ:
(سند میں نہاس بن قہم ضعیف راوی ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 476 سے ماخوذ ہے۔