سنن ابن ماجه
كتاب إقامة الصلاة والسنة— کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
. بَابُ : مَا جَاءَ فِي التَّطَوُّعِ فِي الْبَيْتِ باب: گھر میں نفل پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1378
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ حَرَامِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُّمَا أَفْضَلُ الصَّلَاةُ فِي بَيْتِي ، أَوِ الصَّلَاةُ فِي الْمَسْجِدِ ؟ ، قَالَ : " أَلَا تَرَى إِلَى بَيْتِي مَا أَقْرَبَهُ مِنَ الْمَسْجِدِ ، فَلَأَنْ أُصَلِّيَ فِي بَيْتِي أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُصَلِّيَ فِي الْمَسْجِدِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَلَاةً مَكْتُوبَةً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : دونوں میں کون افضل ہے گھر میں نماز پڑھنا یا مسجد میں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میرے گھر کو نہیں دیکھتے کس قدر مسجد سے قریب ہے ، اس کے باوجود بھی مجھے فرض کے علاوہ نفلی نمازیں گھر میں پڑھنی زیادہ محبوب ہیں “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نوافل کا گھر میں پڑھنا زیادہ افضل ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´گھر میں نفل پڑھنے کا بیان۔`
عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: دونوں میں کون افضل ہے گھر میں نماز پڑھنا یا مسجد میں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم میرے گھر کو نہیں دیکھتے کس قدر مسجد سے قریب ہے، اس کے باوجود بھی مجھے فرض کے علاوہ نفلی نمازیں گھر میں پڑھنی زیادہ محبوب ہیں “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1378]
عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: دونوں میں کون افضل ہے گھر میں نماز پڑھنا یا مسجد میں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم میرے گھر کو نہیں دیکھتے کس قدر مسجد سے قریب ہے، اس کے باوجود بھی مجھے فرض کے علاوہ نفلی نمازیں گھر میں پڑھنی زیادہ محبوب ہیں “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1378]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نفل نماز گھر میں پڑھنا پسند ہونے کی وجہ یہ نہیں کہ مسجد میں آنے جانے میں مشقت ہوتی تھی۔
جیسے کہ مسجد دور ہونے کی صورت میں ہوسکتی ہے۔
بلکہ اصل وجہ یہ تھی کہ گھر میں نفل نماز ادا کرنا افضل ہے۔
(2)
عالم آدمی جب سوال کرنے والے کو اپنا رد عمل بیان کردے۔
تو یہ بھی مسئلہ بتانے کی ایک صورت ہے۔
اس کا فائدہ یہ بھی ہے کہ اس سے سائل کو زیادہ اطمینان حاصل ہوجاتا ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نفل نماز گھر میں پڑھنا پسند ہونے کی وجہ یہ نہیں کہ مسجد میں آنے جانے میں مشقت ہوتی تھی۔
جیسے کہ مسجد دور ہونے کی صورت میں ہوسکتی ہے۔
بلکہ اصل وجہ یہ تھی کہ گھر میں نفل نماز ادا کرنا افضل ہے۔
(2)
عالم آدمی جب سوال کرنے والے کو اپنا رد عمل بیان کردے۔
تو یہ بھی مسئلہ بتانے کی ایک صورت ہے۔
اس کا فائدہ یہ بھی ہے کہ اس سے سائل کو زیادہ اطمینان حاصل ہوجاتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1378 سے ماخوذ ہے۔