حدیث نمبر: 1375
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ طَارِقٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : خَرَجَ نَفَرٌ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ إِلَى عُمَرَ ، فَلَمَّا قَدِمُوا عَلَيْهِ قَالَ لَهُمْ : مِمَّنْ أَنْتُمْ ؟ ، قَالُوا : مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ ، قَالَ : فَبِإِذْنٍ جِئْتُمْ ؟ ، قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : فَسَأَلُوهُ عَنْ صَلَاةِ الرَّجُلِ فِي بَيْتِهِ ، فَقَالَ عُمَرُ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَمَّا صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي بَيْتِهِ فَنُورٌ فَنَوِّرُوا بُيُوتَكُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عاصم بن عمرو کہتے ہیں کہ` عراق کے کچھ لوگ عمر رضی اللہ عنہ سے ملنے کے لیے چلے ، جب آپ ان کے پاس پہنچے تو آپ نے ان سے پوچھا : تم لوگ کس جگہ سے تعلق رکھتے ہو ؟ ان لوگوں نے کہا : عراق سے ، پوچھا : کیا اپنے امیر کی اجازت سے آئے ہو ؟ ان لوگوں نے کہا : ہاں ، انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے گھر میں نماز پڑھنے کے متعلق پوچھا : تو آپ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آدمی کا گھر میں نماز پڑھنا نور ہے ، لہٰذا تم اپنے گھروں کو روشن کرو “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 1375
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, عاصم عن عمر: مرسل (تهذيب الكمال 323/9), وھو مجهول (التحرير: 5193), وأبو إسحاق عنعن, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 425
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 10476 ، ومصباح الزجاجة : 482 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 1/14 ) ( ضعیف ) » ( اس کی سند میں عاصم بن عمرو ضعیف ہیں )