سنن ابن ماجه
كتاب إقامة الصلاة والسنة— کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
. بَابُ : مَا جَاءَ فِي التَّطَوُّعِ فِي الْبَيْتِ باب: گھر میں نفل پڑھنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ طَارِقٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : خَرَجَ نَفَرٌ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ إِلَى عُمَرَ ، فَلَمَّا قَدِمُوا عَلَيْهِ قَالَ لَهُمْ : مِمَّنْ أَنْتُمْ ؟ ، قَالُوا : مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ ، قَالَ : فَبِإِذْنٍ جِئْتُمْ ؟ ، قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : فَسَأَلُوهُ عَنْ صَلَاةِ الرَّجُلِ فِي بَيْتِهِ ، فَقَالَ عُمَرُ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَمَّا صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي بَيْتِهِ فَنُورٌ فَنَوِّرُوا بُيُوتَكُمْ " .
´عاصم بن عمرو کہتے ہیں کہ` عراق کے کچھ لوگ عمر رضی اللہ عنہ سے ملنے کے لیے چلے ، جب آپ ان کے پاس پہنچے تو آپ نے ان سے پوچھا : تم لوگ کس جگہ سے تعلق رکھتے ہو ؟ ان لوگوں نے کہا : عراق سے ، پوچھا : کیا اپنے امیر کی اجازت سے آئے ہو ؟ ان لوگوں نے کہا : ہاں ، انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے گھر میں نماز پڑھنے کے متعلق پوچھا : تو آپ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آدمی کا گھر میں نماز پڑھنا نور ہے ، لہٰذا تم اپنے گھروں کو روشن کرو “ ۔