حدیث نمبر: 1369
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ قَرَأَ الْآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابومسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے سورۃ البقرہ کی آخری دو آیتیں ایک رات میں پڑھیں ، تو وہ دونوں اسے کافی ہوں گی “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 1369
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 4008 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
4008. حضرت ابو مسعود بدری ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’سورہ بقرہ کی آخری دو آیات ہیں، جو کوئی انہیں رات کو پڑھے وہ اس کے لیے کافی ہیں۔‘‘ (راوی حدیث) حضرت عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ میں نے ابومسعود ؓ سے ملاقات کی جبکہ وہ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے، میں نے ان سے یہ حدیث پوچھی تو انہوں نے مجھے یہ حدیث بیان فرمائی۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4008]
حدیث حاشیہ:

ان احادیث کے بیان سے امام بخاری ؒ کا مقصد یہ ہے کہ ابو مسعود عقبہ بن عمروانصاری ؓ بدری صحابی ہیں لیکن غزوہ بدر میں شرکت کرنے کے متعلق کچھ اختلاف ہے۔
اکثر علماء کا خیال ہے کہ وہ بدر میں مقیم ہونے کی بنا پر بدری ہیں بدر کی جنگ میں شریک نہیں ہوئے تھے لیکن صحیح موقف یہی ہے کہ وہ بدر کہ جنگ میں شریک ہونے کی بنا پربدری ہیں، چنانچہ امام بخاری ؒ کی پیش کردہ دوسری حدیث میں صراحت ہے کہ انھوں نے غزوہ بدر میں شرکت کی تھی نیز اثبات کی نفی پر ترجیح ہوتی ہے۔
اس قاعدے کی بنا پر ان کی غزوہ بدر میں شرکت یقینی ہے۔

واضح رہے کہ ابو مسعود عقبہ بن عمرو انصاری ؓ کی دختر ام بشر پہلے سعید بن زید کے نکاح میں تھیں بعد میں انھوں نے حضرت حسن بن علی ؓ سے نکاح کر لیا تو ان کے بطن سے حضرت زید بن حسن ؓ پیدا ہوئے۔
اس اعتبار سے ابو مسعود انصاری ؓ حضرت زید بن حسن کے نانا ہیں، جیسا کہ روایت میں صراحت ہے۔

رات کے وقت سورہ بقرہ کی آخری دو آیات پڑھنے سے اس رات کے مصائب سے پناہ مل جاتی ہے یا دخول جنت کے لیے وہ کافی ہو جاتی ہیں۔
واللہ اعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4008 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5040 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
5040. سیدنا ابو مسعود انصاری ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: جو شخص سورہ بقرہ کی آخری دو آیات رات میں پڑھ لے گا وہ اس کے لیے کافی ہوں گی۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5040]
حدیث حاشیہ: حدیث ہذا میں سورۃ بقرہ نام مذکور ہے یہی باب اور حدیث میں وجہ مطابقت ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5040 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5040 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
5040. سیدنا ابو مسعود انصاری ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: جو شخص سورہ بقرہ کی آخری دو آیات رات میں پڑھ لے گا وہ اس کے لیے کافی ہوں گی۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5040]
حدیث حاشیہ:

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود سورۃ البقرہ کہا ہے، لہذا اس کے جواز میں کوئی شک نہیں ہے۔

حجاج بن یوسف کا بھی یہی موقف تھا کہ سورۃ البقرہ وغیرہ نہیں کہنا چاہیے، چنانچہ اس نے منیٰ میں ایک مرتبہ خطبہ دیا تو دوران خطبہ میں یہی انداز اختیار کیا۔
حضرت ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ نے جب سنا تو انھوں نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ایک حدیث بیان کر کے اس اسلوب کی تردید کی۔
اس میں "سورہ بقرہ" ہی استعمال کیا گیا ہے۔
(صحیح البخاري، الحج، حدیث: 1750)
اس امر کی متعدد علماء نے صراحت کی ہے کہ سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران کہنے میں کوئی حرج نہیں اگرچہ بعض اہل اسلام سے اس کی کراہت منقول ہے۔
(فتح الباري: 110/9)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5040 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 807 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
عبدالرحمان بن یزید بیان کرتے ہیں، بیت اللہ کے پاس میری ملاقات حضرت ابو مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہوئی تو میں نے کہا: مجھے آپ کی بیان کردہ، سورہ بقرہ کی دو آیتوں کے بارے میں حدیث پہنچی ہے تو انھوں نے کہا: ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ’’سورہ بقرہ کی آخری دو آیتیں، جو شخص ان کو رات کو پڑھ لے گا، وہ اس کے لئے کافی ہوں گی۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1878]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: سورۃ بقرہ کی آخری دو آیات سے مراد ﴿آمَنَ الرَّسُولُ﴾ سے لے کر خاتم سورۃ مراد ہے اور(کَفَتَاہُ)
کا مقصد ہے وہ رات کے قیام سے کفایت کریں گی۔
شیطان کے شرو فساد سے اس کی حفاظت کریں گی، اور ہر قسم کی آفتوں اور مصائب سے تحفظ فراہم کریں گی، ان کا اجرو ثواب انسان کے لیے کافی ہو گا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 807 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2881 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´سورۃ البقرہ کی آخری آیات کی فضیلت کا بیان۔`
ابومسعود انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے رات میں سورۃ البقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھیں وہ اس کے لیے کافی ہو گئیں ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2881]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی یہ دونوں آیتیں ہر برائی اور شیطان کے شر سے اس کی حفاظت کریں گی۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2881 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 1397 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´قرآن کے حصے اور پارے مقرر کرنے کا بیان۔`
عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ میں نے ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا آپ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے تو آپ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: جس نے کسی رات میں سورۃ البقرہ کے آخر کی دو آیتیں پڑھیں تو یہ اس کے لیے کافی ہوں گی۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/أبواب قراءة القرآن وتحزيبه وترتيله /حدیث: 1397]
1397. اردو حاشیہ: سورہ بقرہ کی آخری دو آیات کا کافی ہونا یا کفایت کرنا کئی معانی کا محتمل ہے۔ مثلا قیام الیل سے کافی ہیں۔ یا شیطان اور دیگر آفات وغیرہ سے تحفظ کا باعث ہیں۔ یہ سبھی مراد ہیں۔ یا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کم سے کم یہ قراءت لمبی قراءت سے کفایت کرتی ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1397 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1368 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´تہجد (قیام اللیل) کے بدلے کس عمل کے کافی ہونے کی امید کی جاتی ہے؟`
ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سورۃ البقرہ کی آخر کی دو آیتیں جو رات میں پڑھے گا، تو وہ دونوں آیتیں اس کو کافی ہوں گی ۱؎۔ حفص نے اپنی حدیث میں کہا کہ عبدالرحمٰن کہتے ہیں: میں نے ابومسعود رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی وہ طواف کر رہے تھے تو انہوں نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1368]
اردو حاشہ:
فائدہ: کافی ہونے کا یہ مطلب ہے کہ جس کو تہجد کا وقت نہ ملا۔
وہ کم از کم یہ دو آیتیں ہی تلاوت کرلے۔
تو اسے اللہ کی وہ رحمت حاصل ہوجائےگی۔
جوتہجد پڑھنے والے کوحاصل ہوتی ہے۔
یا یہ مطلب ہے کہ پریشانیوں اور آفات سے بچاؤ کےلئے کافی ہوں گی۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1368 سے ماخوذ ہے۔