سنن ابن ماجه
كتاب إقامة الصلاة والسنة— کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
. بَابُ : مَا جَاءَ فِي الْقِرَاءَةِ فِي صَلاَةِ اللَّيْلِ باب: تہجد (قیام اللیل) میں قرات قرآن کا بیان۔
حدیث نمبر: 1354
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ بُرْدِ بْنِ سِنَانٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ ، عَنْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ : أَتَيْتُ عَائِشَةَ ، فَقُلْتُ : أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْهَرُ بِالْقُرْآنِ ، أَوْ يُخَافِتُ بِهِ ؟ ، قَالَتْ : " رُبَّمَا جَهَرَ ، وَرُبَّمَا خَافَتَ " ، قُلْتُ : " اللَّهُ أَكْبَرُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي هَذَا الْأَمْرِ سَعَةً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´غضیف بن حارث کہتے ہیں کہ` میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا ، اور ان سے پوچھا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن بلند آواز سے پڑھتے تھے یا آہستہ ؟ انہوں نے کہا : کبھی بلند آواز سے پڑھتے تھے اور کبھی آہستہ ، میں نے کہا : اللہ اکبر ، شکر ہے اس اللہ کا جس نے اس معاملہ میں وسعت رکھی ہے ۔