سنن ابن ماجه
كتاب إقامة الصلاة والسنة— کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
. بَابُ : مَا جَاءَ فِي كَمْ يُسْتَحَبُّ يُخْتَمُ الْقُرْآنُ باب: قرآن مجید کو کتنے دن میں ختم کرنا مستحب ہے؟
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْلَى الطَّائِفِيِّ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ جَدِّهِ أَوْسِ بْنِ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَفْدِ ثَقِيفٍ ، فَنَزَّلُوا الْأَحْلَافَ عَلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، وَأَنْزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَنِي مَالِكٍ فِي قُبَّةٍ لَهُ ، فَكَانَ يَأْتِينَا كُلَّ لَيْلَةٍ بَعْدَ الْعِشَاءِ ، فَيُحَدِّثُنَا قَائِمًا عَلَى رِجْلَيْهِ حَتَّى يُرَاوِحَ بَيْنَ رِجْلَيْهِ ، وَأَكْثَرُ مَا يُحَدِّثُنَا مَا لَقِيَ مِنْ قَوْمِهِ مِنْ قُرَيْشٍ ، وَيَقُولُ : " وَلَا سَوَاءَ كُنَّا مُسْتَضْعَفِينَ مُسْتَذَلِّينَ ، فَلَمَّا خَرَجْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ كَانَتْ سِجَالُ الْحَرْبِ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ ، نُدَالُ عَلَيْهِمْ وَيُدَالُونَ عَلَيْنَا " ، فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ لَيْلَةٍ أَبْطَأَ عَنِ الْوَقْتِ الَّذِي كَانَ يَأْتِينَا فِيهِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَقَدْ أَبْطَأْتَ عَلَيْنَا اللَّيْلَةَ ، قَالَ : " إِنَّهُ طَرَأَ عَلَيَّ حِزْبِي مِنَ الْقُرْآنِ ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَخْرُجَ حَتَّى أُتِمَّهُ " ، قَالَ أَوْسٌ : فَسَأَلْتُ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَيْفَ تُحَزِّبُونَ الْقُرْآنَ ؟ ، قَالُوا : ثَلَاثٌ ، وَخَمْسٌ ، وَسَبْعٌ ، وَتِسْعٌ ، وَإِحْدَى عَشْرَةَ ، وَثَلَاثَ عَشْرَةَ ، وَحِزْبُ الْمُفَصَّلِ " .
´اوس بن حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ثقیف کے ایک وفد میں آئے ، تو لوگوں نے قریش کے حلیفوں کو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے پاس اتارا ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو مالک کو اپنے ایک خیمہ میں اتارا ، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر رات عشاء کے بعد ہمارے پاس تشریف لاتے ، اور کھڑے کھڑے باتیں کرتے یہاں تک کہ ایک پاؤں سے دوسرے پاؤں پر بدل بدل کر کھڑے رہتے ، اور اکثر وہ حالات بیان کرتے جو اپنے خاندان قریش سے آپ کو پیش آئے تھے ، اور فرماتے : ” ہم اور وہ برابر نہ تھے ، ہم کمزور اور بے حیثیت تھے ، لیکن جب ہم مدینہ آئے تو لڑائی کا ڈول ہمارے اور ان کے درمیان رہا ، ہم ان کے اوپر ڈول نکالتے اور وہ ہمارے اوپر ڈول نکالتے “ ۱؎ ایک رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے وقت مقررہ پر آنے میں تاخیر کی ؟ تو میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ نے آج رات تاخیر کی ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرا قرآن کا وظیفہ پڑھنے سے رہ گیا تھا ، میں نے مناسب نہیں سمجھا کہ اس کو پورا کئے بغیر نکلوں “ ۔ اوس کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے پوچھا : آپ لوگ قرآن کے وظیفے کیسے مقرر کرتے تھے ؟ انہوں نے کہا : پہلا حزب تین سورتوں کا ( بقرہ ، آل عمران اور نساء ) دوسرا حزب پانچ سورتوں کا ( مائدہ ، انعام ، اعراف ، انفال اور براءۃ ) ، تیسرا حزب سات سورتوں کا ( یونس ، ہود ، یوسف ، رعد ، ابراہیم ، حجر اور نمل ) ، چوتھا حزب نو سورتوں کا ( بنی اسرائیل ، کہف ، مریم ، طہٰ ، انبیاء ، حج ، مومنون ، نور اور فرقان ) ، پانچواں حزب گیارہ سورتوں کا ( شعراء ، نحل ، قصص ، عنکبوت ، روم ، لقمان ، سجدہ ، احزاب ، سبا ، فاطر اور یٰسین ) ، اور چھٹا حزب تیرہ سورتوں کا ( صافات ، ص ، زمر ، ساتوں حوامیم ، محمد ، فتح اور حجرات ) ، اور ساتواں حزب مفصل کا ( سورۃ ق سے آخر قرآن تک ) ۔