حدیث نمبر: 1344
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَمَّالُ ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أَتَى فِرَاشَهُ وَهُوَ يَنْوِي أَنْ يَقُومَ فَيُصَلِّيَ مِنَ اللَّيْلِ فَغَلَبَتْهُ عَيْنُهُ حَتَّى يُصْبِحَ ، كُتِبَ لَهُ مَا نَوَى وَكَانَ نَوْمُهُ صَدَقَةً عَلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص اپنے بستر پہ آئے ، اور ارادہ رکھتا ہو کہ رات میں اٹھ کر نماز پڑھے گا ، پھر اسے ایسی نیند آئی کہ صبح ہو گئی ، تو اس کا ثواب اس کی نیت کے مطابق لکھا جائے گا ، اور اس کا سونا اس کے رب کی طرف سے اس پر صدقہ ہو گا “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 1344
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث « سنن النسائی/قیام اللیل 54 ( 1788 ) ، ( تحفة الأشراف : 10937 ) ( صحیح ) » ( ملاحظہ ہو : الإرواء : 454 )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´جو کوئی رات کا مقررہ وظیفہ یا ورد پڑھے بغیر سو جائے تو کیا کرے؟`
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جو شخص اپنے بستر پہ آئے، اور ارادہ رکھتا ہو کہ رات میں اٹھ کر نماز پڑھے گا، پھر اسے ایسی نیند آئی کہ صبح ہو گئی، تو اس کا ثواب اس کی نیت کے مطابق لکھا جائے گا، اور اس کا سونا اس کے رب کی طرف سے اس پر صدقہ ہو گا۔‏‏‏‏" [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1344]
اردو حاشہ:
نیت دل کے ارادے کا نام ہے۔
یعنی سوتے وقت پورا پختہ ارادہ ہونا چاہیے۔
کہ آج رات کو جاگنا ضرور ہے۔
تاکہ تہجد ادا کی جائے۔
یہ نہیں کہ دل میں عزم تو نہ ہو۔
صرف زبان سے یہ اظہار کرکے سمجھے کہ نیند بھی پوری کرلیں گے۔
اور ثواب بھی مل جائے گا۔
اس قسم کاارادہ حقیقی نیت ہے ہی نہیں۔
لہذا اس پر مذکورہ ثواب نہیں ملےگا۔ 2۔
خلوص نیت کی یہ برکت ہے۔
کہ عمل نہ ہوسکنے پر بھی ثواب مل جاتاہے۔
بشرط یہ کہ جان بوجھ کر سستی اور کوتاہی نہ کی جائے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1344 سے ماخوذ ہے۔