سنن ابن ماجه
كتاب إقامة الصلاة والسنة— کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
. بَابٌ في حُسْنِ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ باب: قرآن مجید کو اچھی آواز سے پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1340
حَدَّثَنَا رَاشِدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ رَاشِدٍ الرَّمْلِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ مَيْسَرَةَ مَوْلَى فَضَالَةَ ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَلَّهُ أَشَدُّ أَذَنًا إِلَى الرَّجُلِ الْحَسَنِ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ ، يَجْهَرُ بِهِ مِنْ صَاحِبِ الْقَيْنَةِ إِلَى قَيْنَتِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ خوش الحان شخص کا قرآن اس سے زیادہ متوجہ ہو کر سنتا ہے جتنا کہ گانا سننے والا اپنی توجہ گانے والی کی طرف لگاتا ہے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´قرآن مجید کو اچھی آواز سے پڑھنے کا بیان۔`
فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ تعالیٰ خوش الحان شخص کا قرآن اس سے زیادہ متوجہ ہو کر سنتا ہے جتنا کہ گانا سننے والا اپنی توجہ گانے والی کی طرف لگاتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1340]
فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ تعالیٰ خوش الحان شخص کا قرآن اس سے زیادہ متوجہ ہو کر سنتا ہے جتنا کہ گانا سننے والا اپنی توجہ گانے والی کی طرف لگاتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1340]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق اور دیگر محققین نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے۔
جبکہ الموسوعۃ الحدیثیۃ کے محققین نے لکھا ہے کہ مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے۔
تاہم روایت کے پہلے حصے سے یعنی اللہ تعالیٰ اچھی اور خوبصورت آواز والے شخص کی تلاوت توجہ سے سنتا ہے۔
حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی حدیث جو کہ صحیح بخاری میں ہے کفایت کرتی ہے۔
لہذا مذکورہ روایت آخری جملے جس قدر توجہ سے گانے والی۔
۔
۔
کے سوا صحیح ہے۔
تفصیل کے لئے دیکھئے: (الموسوعة الحدیثیة مسند الإمام أحمد: 372/39)
فوائد و مسائل:
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق اور دیگر محققین نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے۔
جبکہ الموسوعۃ الحدیثیۃ کے محققین نے لکھا ہے کہ مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے۔
تاہم روایت کے پہلے حصے سے یعنی اللہ تعالیٰ اچھی اور خوبصورت آواز والے شخص کی تلاوت توجہ سے سنتا ہے۔
حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی حدیث جو کہ صحیح بخاری میں ہے کفایت کرتی ہے۔
لہذا مذکورہ روایت آخری جملے جس قدر توجہ سے گانے والی۔
۔
۔
کے سوا صحیح ہے۔
تفصیل کے لئے دیکھئے: (الموسوعة الحدیثیة مسند الإمام أحمد: 372/39)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1340 سے ماخوذ ہے۔