حدیث نمبر: 1339
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الضَّرِيرُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَدَنِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ مُجَمِّعٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ صَوْتًا بِالْقُرْآنِ الَّذِي إِذَا سَمِعْتُمُوهُ يَقْرَأُ حَسِبْتُمُوهُ يَخْشَى اللَّهَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگوں میں سب سے عمدہ آواز میں قرآن پڑھنے والا وہ ہے کہ جب تم اس کی قراءت سنو تو تمہیں ایسا لگے کہ وہ اللہ سے ڈرتا ہے “ ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی درد انگیز آواز سے پڑھتا ہو، اور اس پر رقت طاری ہو جاتی ہو۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 1339
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ابن مجمع: ضعيف, وللحديث شاهد مرسل ضعيف عند ابن المبارك في الزهد (114), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 425
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 2646 ، ومصباح الزجاجة : 471 ) ( صحیح ) » ( دوسرے طرق سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے ، ورنہ اس حدیث کی سند میں دو راوی عبد اللہ بن جعفر اور ابراہیم بن اسماعیل بن مجمع ضعیف ہیں ، ملاحظہ ہو : مصباح الزجاجة : 475 ، بتحقیق عوض الشہری )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´قرآن مجید کو اچھی آواز سے پڑھنے کا بیان۔`
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سب سے عمدہ آواز میں قرآن پڑھنے والا وہ ہے کہ جب تم اس کی قراءت سنو تو تمہیں ایسا لگے کہ وہ اللہ سے ڈرتا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1339]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے۔
جبکہ شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
تفصیل کے لئے دیکھئے: (التعلیق الرغیب: 215/2، وصفة الصلاة)
 جس طرح حسن صوت تلاوت کی زینت ہے۔
اسی طرح یہ چیز بھی تلاوت کے حسن میں اضافہ کرتی ہے۔
کہ پڑھنے والے کے انداز سے محسوس ہو کہ وہ قرآن کا اثر قبول کررہا ہے۔
اور اس کے دل میں اللہ کا خوف موجود ہے۔

(2)
یہ مقصد اس وقت حاصل ہوسکتا ہے جب تلاوت کرنے والا قرآن کے معنی ومطالب بھی سمجھتا ہو۔
لہٰذا قرآن مجید کا ترجمہ اور تفسیر سیکھنے اور اس پر عمل کرنے پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1339 سے ماخوذ ہے۔