سنن ابن ماجه
كتاب إقامة الصلاة والسنة— کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
. بَابٌ في حُسْنِ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ باب: قرآن مجید کو اچھی آواز سے پڑھنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ سَابِطٍ الْجُمَحِيَّ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : أَبْطَأْتُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً بَعْدَ الْعِشَاءِ ، ثُمَّ جِئْتُ ، فَقَالَ : " أَيْنَ كُنْتِ ؟ " ، قُلْتُ : كُنْتُ أَسْتَمِعُ قِرَاءَةَ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِكَ ، لَمْ أَسْمَعْ مِثْلَ قِرَاءَتِهِ وَصَوْتِهِ مِنْ أَحَدٍ ، قَالَتْ : فَقَامَ ، وَقُمْتُ مَعَهُ حَتَّى اسْتَمَعَ لَهُ ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيَّ ، فَقَالَ : " هَذَا سَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي أُمَّتِي مِثْلَ هَذَا ".
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` ایک روز میں نے عشاء کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے میں دیر کر دی ، جب میں آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم کہاں تھیں ؟ “ میں نے کہا : آپ کے اصحاب میں سے ایک شخص کی تلاوت سن رہی تھی ، ویسی تلاوت اور ویسی آواز میں نے کسی سے نہیں سنی ، یہ سنتے ہی آپ کھڑے ہوئے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میں بھی کھڑی ہوئی ، آپ نے اس شخص کی قراءت سنی ، پھر آپ میری جانب متوجہ ہوئے ، اور فرمایا : ” یہ ابوحذیفہ کے غلام سالم ہیں ، اللہ کا شکر ہے کہ اس نے میری امت میں ایسا شخص پیدا کیا “ ۱؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک روز میں نے عشاء کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے میں دیر کر دی، جب میں آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم کہاں تھیں؟ “ میں نے کہا: آپ کے اصحاب میں سے ایک شخص کی تلاوت سن رہی تھی، ویسی تلاوت اور ویسی آواز میں نے کسی سے نہیں سنی، یہ سنتے ہی آپ کھڑے ہوئے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میں بھی کھڑی ہوئی، آپ نے اس شخص کی قراءت سنی، پھر آپ میری جانب متوجہ ہوئے، اور فرمایا: ” یہ ابوحذیفہ کے غلام سالم ہیں، اللہ کا شکر ہے کہ اس نے میری امت میں ایسا شخص پیدا کیا “ ۱؎۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1338]
فوائد و مسائل:
(1)
کوئی شخص تلاوت کر رہا ہو تو خاموشی اور توجہ سے سننا چاہیے۔
(2)
صحابہ کرام رضوان للہ عنہم اجمعین میں تلاوت سننے کا شوق بہت زیادہ تھا۔
(3)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی صحابہ کرام رضوان للہ عنہم اجمعین سے تلاوت سنتے تھے۔
اس لئے ایک بڑے عالم یا بلند درجہ شخص کوبھی کم درجہ شخص سے تلاوت سننے میں تکلف نہیں کرنا چاہیے۔
(4)
عورت اجنبی مرد کی تلاوت اور تقریر سن سکتی ہے۔
(5)
کسی کو اللہ نے کوئی خوبی عطا فرمائی ہو تو اس کی تعریف کرنے میں کوئی حرج نہیں خصوصاً جب تعریف اس کی موجودگی میں نہ ہو۔
(6)
شاگرد کی خوبی استاد کےلئے خوشی کا باعث ہوتی ہے۔
اس پر بھی اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔
اسی طرح اولاد کی نیکی خوبی اور کمال پر والدین کو اللہ شکر کرنا چاہیے۔