سنن ابن ماجه
كتاب إقامة الصلاة والسنة— کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
. بَابُ : مَا جَاءَ فِي قِيامِ شَهْرِ رَمَضَانَ باب: ماہ رمضان میں قیام اللیل (تراویح) کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيّ ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ شَيْبَانَ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيّ ، وَالْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ الْحُدَّانِيُّ كِلَاهُمَا ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ شَيْبَانَ ، قَالَ : لَقِيتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، فَقُلْتُ : حَدِّثْنِي بِحَدِيثٍ سَمِعْتَهُ مِنْ أَبِيكَ يَذْكُرُهُ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ ، قَالَ : نَعَمْ ، حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ شَهْرَ رَمَضَانَ ، فَقَالَ : " شَهْرٌ كَتَبَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ صِيَامَهُ وَسَنَنْتُ لَكُمْ قِيَامَهُ ، فَمَنْ صَامَهُ وَقَامَهُ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ " .
´نضر بن شیبان کہتے ہیں کہ` میں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے ملا اور کہا : آپ مجھ سے کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے ، جو آپ نے رمضان سے متعلق اپنے والد سے سنی ہو ، ابوسلمہ نے کہا : ہاں ، میرے والد نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ رمضان کا ذکر کیا تو فرمایا : ” وہ ایسا مہینہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے اوپر اس کے روزے کو فرض قرار دیا ہے ، اور میں نے اس کے قیام اللیل کو تمہارے لیے مسنون قرار دیا ہے ، لہٰذا جو شخص ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے اس مہینے میں روزے رکھے ، اور راتوں میں نفل پڑھے ، وہ اپنے گناہوں سے اس طرح نکل جائے گا جیسے اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے جنا تھا “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
نضر بن شیبان کہتے ہیں: میں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے کہا کہ آپ مجھ سے ماہ رمضان کے متعلق کوئی ایسی بات بیان کریں جو آپ نے اپنے والد (عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ) سے سنی ہو، اور اسے آپ کے والد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سنا ہو، آپ کے والد اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیچ کوئی اور حائل نہ ہو۔ انہوں نے کہا: اچھا سنو! مجھ سے میرے والد نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بیشک اللہ تبار۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2212]
(2) رمضان المبارک کے روزوں کی فرضیت تو متفقہ مسئلہ ہے، البتہ راتوں کا قیام نفل ہے، لیکن یہ نفل موکد ہیں۔ چونکہ یہ نوافل رمضان المبارک کی خصوصیت ہیں، لہٰذا انہیں ترک نہیں کرنا چاہیے کیونکہ امتیازات کی پابندی مؤکد ہوتی ہے، البتہ آپ کے دور میں رمضان کے نفلوں میں فرضیت کے ڈر سے مستقل جماعت سے اجتناب کیا گیا، صرف تین دن آپ نے جماعت کروائی ویسے لوگ ٹولیوں کی صورت میں آپ کے دور میں بھی پڑھا کرتے تھے۔ جب فرضیت کا خطرہ نہ رہا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے باقاعدہ جماعت کا دوبارہ آغاز فرما دیا، لہٰذا اب یہی سنت ہے کیونکہ خلفائے راشدین کی سنت پر عمل کرنا بھی ضروری ہے، نیز اس پر صحابہ اور مابعد ادوار کا اجماع ہے، لہٰذا کسی مسجد کو تراویح کی جماعت سے محروم نہیں رکھنا چاہیے، البتہ اگر کوئی حافظ قاری جماعت سے الگ پڑھنا چاہے تو وہ الگ بھی پڑھ سکتا ہے۔ عشاء کے فوراً بعد پڑھے یا تہجد کے وقت۔ ہاں، جماعت عشاء کے بعد ہی ہوگی۔ مسنون نماز تراویح گیارہ رکعات ہے کیونکہ جن دنوں آپ نے جماعت کروائی تھی، گیارہ رکعت ہی پڑھائی تھیں، نیز رمضان اور غیر رمضان آپ علیہ السلام اتنی نماز ہی پڑھتے تھے۔ نبی اکرمﷺ یا کسی صحابی سے نماز تراویح کسی صحیح حدیث یا اثر سے گیارہ رکعات سے زائد ثابت نہیں، اس لیے اسی پر اکتفاء مسنون ومشروع ہے۔ جن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے آثار کی روشنی میں گیارہ سے زائد نوافل (نماز تراویح) کا دعویٰ کیا جاتا ہے، وہ سب ضعیف اور محدثین کے ہاں ناقابل اعتبار ہیں۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیے: (صلاۃ التراویح للالبانی)