سنن ابن ماجه
كتاب إقامة الصلاة والسنة— کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
. بَابُ : مَا جَاءَ فِي لُبْسِ السِّلاَحِ فِي يَوْمِ الْعِيدِ باب: عید کے دن ہتھیار بند ہونے کا حکم۔
حدیث نمبر: 1314
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا نَائِلُ بْنُ نَجِيحٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى أَنْ يُلْبَسَ السِّلَاحُ فِي بِلَادِ الْإِسْلَامِ فِي الْعِيدَيْنِ إِلَّا أَنْ يَكُونُوا بِحَضْرَةِ الْعَدُوِّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی شہروں میں عیدین کے دنوں میں ہتھیار باندھ کر جانے سے منع فرمایا ، الا یہ کہ دشمن کا سامنا ہو ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´عید کے دن ہتھیار بند ہونے کا حکم۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی شہروں میں عیدین کے دنوں میں ہتھیار باندھ کر جانے سے منع فرمایا، الا یہ کہ دشمن کا سامنا ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1314]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی شہروں میں عیدین کے دنوں میں ہتھیار باندھ کر جانے سے منع فرمایا، الا یہ کہ دشمن کا سامنا ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1314]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل: (1)
مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے تاہم مسئلہ درست ہے جیسے کہ صحیح بخاری میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول مروی ہے۔
جس سے عید کے موقع پر ہتھیار پہننے کی شرعاً ممانعت معلوم ہوتی ہے۔ (صحیح البخاري، العیدین، باب مایکرہ من حمل السلاح فی العید والحرم، حدیث: 966)
(2)
ممانعت میں یہ حکمت ہے کہ مسلمانوں کا اجتماع ہونے کی وجہ سے کسی کو بلا ارادہ جو نقصان پہنچ سکتا ہے اس سے بچاؤ رہے۔
فوائد ومسائل: (1)
مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے تاہم مسئلہ درست ہے جیسے کہ صحیح بخاری میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول مروی ہے۔
جس سے عید کے موقع پر ہتھیار پہننے کی شرعاً ممانعت معلوم ہوتی ہے۔ (صحیح البخاري، العیدین، باب مایکرہ من حمل السلاح فی العید والحرم، حدیث: 966)
(2)
ممانعت میں یہ حکمت ہے کہ مسلمانوں کا اجتماع ہونے کی وجہ سے کسی کو بلا ارادہ جو نقصان پہنچ سکتا ہے اس سے بچاؤ رہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1314 سے ماخوذ ہے۔