سنن ابن ماجه
كتاب إقامة الصلاة والسنة— کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
. بَابُ : مَا جَاءَ فِيمَا إِذَا اجْتَمَعَ الْعِيدَانِ فِي يَوْمٍ باب: عید اور جمعہ ایک دن اکٹھا ہو جائیں تو کیسے کرے؟
حدیث نمبر: 1311
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي مُغِيرَةُ الضَّبِّيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " اجْتَمَعَ عِيدَانِ فِي يَوْمِكُمْ هَذَا ، فَمَنْ شَاءَ أَجْزَأَهُ مِنَ الْجُمُعَةِ ، وَإِنَّا مُجَمِّعُونَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارے آج کے دن میں دو عیدیں جمع ہوئی ہیں ، لہٰذا جو جمعہ نہ پڑھنا چاہے اس کے لیے عید کی نماز ہی کافی ہے ، اور ہم تو ان شاءاللہ جمعہ پڑھنے والے ہیں “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´عید اور جمعہ ایک دن اکٹھا ہو جائیں تو کیسے کرے؟`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تمہارے آج کے دن میں دو عیدیں جمع ہوئی ہیں، لہٰذا جو جمعہ نہ پڑھنا چاہے اس کے لیے عید کی نماز ہی کافی ہے، اور ہم تو ان شاءاللہ جمعہ پڑھنے والے ہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1311]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تمہارے آج کے دن میں دو عیدیں جمع ہوئی ہیں، لہٰذا جو جمعہ نہ پڑھنا چاہے اس کے لیے عید کی نماز ہی کافی ہے، اور ہم تو ان شاءاللہ جمعہ پڑھنے والے ہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1311]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قراردیا ہے۔
جبکہ مسئلہ فی نفسہ درست ہے۔
جیسا کہ گزشتہ حدیث میں مذکور ہے۔
اور وہ روایت بھی ہمارے شیخ کے نزدیک حسن ہے۔
(2)
ایک دن میں دو عیدیں جمع ہونے کامطلب یہ ہے۔
کہ عید کا دن جمعے کو واقع ہو۔
کیونکہ جمعہ مسلمانوں کی ہفت ر وزہ عید ہے۔
اور عید الفطر یا عید الاضحیٰ سالانہ عید ہے۔
(3)
جو لوگ شہر کے باہرڈیروں میں رہتے ہیں۔
انہیں عید کی نماز کے لئے شہر آنا چاہیے۔
اسی طرح جمعے کی نماز بھی کسی بستی میں ہی ادا کرنی چاہیے۔
(4)
جمعے کے دن عید آ جائے تو ان لوگوں سے جمعہ کی فرضیت ساقط ہوجاتی ہے۔
وہ اپنی قیام گاہوں پر ظہر کی نماز پڑھ سکتے ہیں۔
(5)
شہر اور بستی والوں کو عید کے دن جمعے کی نماز میں حاضر ہوناچاہیے۔
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قراردیا ہے۔
جبکہ مسئلہ فی نفسہ درست ہے۔
جیسا کہ گزشتہ حدیث میں مذکور ہے۔
اور وہ روایت بھی ہمارے شیخ کے نزدیک حسن ہے۔
(2)
ایک دن میں دو عیدیں جمع ہونے کامطلب یہ ہے۔
کہ عید کا دن جمعے کو واقع ہو۔
کیونکہ جمعہ مسلمانوں کی ہفت ر وزہ عید ہے۔
اور عید الفطر یا عید الاضحیٰ سالانہ عید ہے۔
(3)
جو لوگ شہر کے باہرڈیروں میں رہتے ہیں۔
انہیں عید کی نماز کے لئے شہر آنا چاہیے۔
اسی طرح جمعے کی نماز بھی کسی بستی میں ہی ادا کرنی چاہیے۔
(4)
جمعے کے دن عید آ جائے تو ان لوگوں سے جمعہ کی فرضیت ساقط ہوجاتی ہے۔
وہ اپنی قیام گاہوں پر ظہر کی نماز پڑھ سکتے ہیں۔
(5)
شہر اور بستی والوں کو عید کے دن جمعے کی نماز میں حاضر ہوناچاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1311 سے ماخوذ ہے۔