سنن ابن ماجه
كتاب إقامة الصلاة والسنة— کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
. بَابُ : مَا جَاءَ فِي التَّقْلِيسِ يَوْمَ الْعِيدِ باب: عید کے دن دف بجانے اور کھیلنے کودنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1303
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : مَا كَانَ شَيْءٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِلَّا وَقَدْ رَأَيْتُهُ إِلَّا شَيْءٌ وَاحِدٌ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ يُقَلَّسُ لَهُ يَوْمَ الْفِطْرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جتنی چیزیں تھیں ، وہ سب میں نے دیکھیں سوائے ایک چیز کے ، وہ یہ کہ عید الفطر کے روز آپ کے لیے گانا بجانا ہوتا تھا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´عید کے دن دف بجانے اور کھیلنے کودنے کا بیان۔`
قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جتنی چیزیں تھیں، وہ سب میں نے دیکھیں سوائے ایک چیز کے، وہ یہ کہ عید الفطر کے روز آپ کے لیے گانا بجانا ہوتا تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1303]
قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جتنی چیزیں تھیں، وہ سب میں نے دیکھیں سوائے ایک چیز کے، وہ یہ کہ عید الفطر کے روز آپ کے لیے گانا بجانا ہوتا تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1303]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت ہمارے فاضل محقق کے نزدیک سنداً ضعیف ہے۔
جب کہ بعض محققین نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
بنا بریں عید کے دن بچیوں کے لئے جائز ہے۔
کہ گھر میں کوئی گیت وغیرہ گالیں۔
اگرچہ ساتھ دف بھی ہو (صحیح البخاري، العیدین، باب سنة العیدین لأھل الإسلام، حدیث: 952)
ایک دفعہ عید الاضحیٰ کے ایک دن حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر انصار کی بچیوں نے دف بجا کراپنے بزرگوں کی تعریف میں کچھ اشعار گانے شروع کئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع نہیں فرمایا۔
البتہ منہ پھیر کر لیٹ گئے۔
حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لائے تو بچیوں کوڈانٹا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
رہنے دو یہ ہماری عید کا دن اس لئے عید کے دن گانے بجانے کی اجازت ہے لیکن مندرجہ ذیل امور کو مد نظر رکھنا ضروری ہے۔
(الف)
اس کی اجازت صرف خاص خاص موقعوں کے لئے ہے۔
مثلاً عید الفطر، عید الاضحیٰ، ایام تشریق (قربانی کے دن)
اورشادی کے موقع پر-
(ب)
بچیوں کوصرف اجازت دی جائے۔
ان کی حوصلہ افزائی نہ کی جائے۔
نہ بزرگ مرد اور خواتین اس میں شریک ہوں۔
(ج)
جو اشعار پڑھے جایئں ان میں حیا کے منافی بد اخلاقی کا سبق دینے والی یا شرکیہ باتیں نہ ہوں۔
(د)
دف کے سوا کوئی دوسرا ساز نہ نہ بجایا جائے۔
(ھ)
وہ گانے بجانے کی پیشہ ور عورتیں نہ ہوں۔
جیسے کہ صحیح بخاری میں ہے۔ (وَلَيْسَتَا بِمُغَنِّيَتَيْنِ)
وه گانے والیاں نہ تھیں۔ (صحیح البخاري، العیدین، باب سنة العیدین لأھل الإسلام، حدیث: 952)
(و)
اس موقع پر نوجوان بچوں اور بچیوں کا اختلاط نہ ہو جیسے ہمارے معاشرے میں شادی وغیرہ کی تقریبات میں عام طور پر ہوتا ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت ہمارے فاضل محقق کے نزدیک سنداً ضعیف ہے۔
جب کہ بعض محققین نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
بنا بریں عید کے دن بچیوں کے لئے جائز ہے۔
کہ گھر میں کوئی گیت وغیرہ گالیں۔
اگرچہ ساتھ دف بھی ہو (صحیح البخاري، العیدین، باب سنة العیدین لأھل الإسلام، حدیث: 952)
ایک دفعہ عید الاضحیٰ کے ایک دن حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر انصار کی بچیوں نے دف بجا کراپنے بزرگوں کی تعریف میں کچھ اشعار گانے شروع کئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع نہیں فرمایا۔
البتہ منہ پھیر کر لیٹ گئے۔
حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لائے تو بچیوں کوڈانٹا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
رہنے دو یہ ہماری عید کا دن اس لئے عید کے دن گانے بجانے کی اجازت ہے لیکن مندرجہ ذیل امور کو مد نظر رکھنا ضروری ہے۔
(الف)
اس کی اجازت صرف خاص خاص موقعوں کے لئے ہے۔
مثلاً عید الفطر، عید الاضحیٰ، ایام تشریق (قربانی کے دن)
اورشادی کے موقع پر-
(ب)
بچیوں کوصرف اجازت دی جائے۔
ان کی حوصلہ افزائی نہ کی جائے۔
نہ بزرگ مرد اور خواتین اس میں شریک ہوں۔
(ج)
جو اشعار پڑھے جایئں ان میں حیا کے منافی بد اخلاقی کا سبق دینے والی یا شرکیہ باتیں نہ ہوں۔
(د)
دف کے سوا کوئی دوسرا ساز نہ نہ بجایا جائے۔
(ھ)
وہ گانے بجانے کی پیشہ ور عورتیں نہ ہوں۔
جیسے کہ صحیح بخاری میں ہے۔ (وَلَيْسَتَا بِمُغَنِّيَتَيْنِ)
وه گانے والیاں نہ تھیں۔ (صحیح البخاري، العیدین، باب سنة العیدین لأھل الإسلام، حدیث: 952)
(و)
اس موقع پر نوجوان بچوں اور بچیوں کا اختلاط نہ ہو جیسے ہمارے معاشرے میں شادی وغیرہ کی تقریبات میں عام طور پر ہوتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1303 سے ماخوذ ہے۔