حدیث نمبر: 1301
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ ، عَنْ فُلَيْحِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ الزُّرَقِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ إِذَا خَرَجَ إِلَى الْعِيدِ رَجَعَ فِي غَيْرِ الطَّرِيقِ الَّذِي أَخَذَ فِيهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب عیدین کے لیے نکلتے تو اس راستہ کے سوا دوسرے راستہ سے لوٹتے جس سے شروع میں آئے تھے ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 1301
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج حدیث « صحیح البخاری/العیدین 24 ( 986 ) ، سنن الترمذی/الصلاة 272 ( الجمعة 37 ) ، ( 541 ) ، ( تحفة الأشراف : 12937 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 2/209 ، 388 ) ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 541

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´عید کے دن ایک راستے سے عیدگاہ جانے اور دوسرے راستے سے واپس آنے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب عیدین کے لیے نکلتے تو اس راستہ کے سوا دوسرے راستہ سے لوٹتے جس سے شروع میں آئے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1301]
اردو حاشہ:
فائده:
یہ عمل مستحب ہے۔
اس میں حکمت یہ ہے کہ مسلمانوں کی شان وشوکت ظاہر ہو اور جاتے اور آتے وقت تکبیرات پڑھنے سے اللہ کی زیادہ سے زیادہ مخلوق شجر وحجر وغیرہ قیامت کے دن مومن کی نیکیوں کی گواہی دیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1301 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 541 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´عید کے لیے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ایک راستے سے جاتے اور دوسرے سے واپس آتے۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب عید کے دن ایک راستے سے نکلتے تو دوسرے سے واپس آتے ۱؎۔ [سنن ترمذي/أبواب العيدين/حدیث: 541]
اردو حاشہ:
1؎:
نبی اکرم ﷺ کی پیروی میں مسلمانوں کو بھی راستہ تبدیل کر کے آنا جانا چاہئے، کیونکہ اس سے ایک تو اسلام کی شان و شوکت کا مظاہرہ ہو گا دوسرے قیامت کے دن یہ دونوں راستے ان کی اس عبادت کی گواہی دیں گے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 541 سے ماخوذ ہے۔