سنن ابن ماجه
كتاب إقامة الصلاة والسنة— کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
. بَابُ : مَا جَاءَ فِي الْخُرُوجِ يَوْمَ الْعِيدِ مِنْ طَرِيقٍ وَالرُّجُوعِ مِنْ غَيْرِهِ باب: عید کے دن ایک راستے سے عیدگاہ جانے اور دوسرے راستے سے واپس آنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1299
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ " أَنَّهُ كَانَ يَخْرُجُ إِلَى الْعِيدِ فِي طَرِيقٍ ، وَيَرْجِعُ فِي أُخْرَى ، وَيَزْعُمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` وہ عید کے لیے ایک راستے سے جاتے ، اور دوسرے راستے سے واپس آتے اور کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 1156 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´عید کے لیے ایک راستے سے جائے اور دوسرے سے واپس آئے۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن ایک راستے سے گئے پھر دوسرے راستے سے واپس آئے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1156]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن ایک راستے سے گئے پھر دوسرے راستے سے واپس آئے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1156]
1156۔ اردو حاشیہ:
یہ عمل مستحب ہے جبکہ صحیح بخاری میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب عید کا دن ہوتا تو (آتے جاتے) راستہ تبدیل کرتے تھے۔ [صحيح بخاري۔ حديث: 986]
یہ عمل مستحب ہے جبکہ صحیح بخاری میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب عید کا دن ہوتا تو (آتے جاتے) راستہ تبدیل کرتے تھے۔ [صحيح بخاري۔ حديث: 986]
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1156 سے ماخوذ ہے۔