حدیث نمبر: 1289
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَحْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فِطْرٍ أَوْ أَضْحَى ، فَخَطَبَ قَائِمًا ، ثُمَّ قَعَدَ قَعْدَةً ، ثُمَّ قَامَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر یا عید الاضحی میں گئے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا ، پھر تھوڑی دیر بیٹھے ، پھر کھڑے ہو گئے ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 1289
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: منكر , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, قال البوصيري ما ملخصه: ’’ إسماعيل بن مسلم (المكي) أجمعوا علي ضعفه،أبو بحر (البكراوي) ضعيف ‘‘ إسماعيل بن مسلم: ضعيف, وعبد الرحمٰن بن عثمان البكراوي: ضعيف, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 421
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 2661 ، ومصباح الزجاجة : 449 ) ( منکر ) » ( سند میں اسماعیل بن مسلم اور ابوبحر ضعیف ہیں ، نیز ابوالزبیر مدلس اور روایت عنعنہ سے کی ہے ، اس لئے یہ سنداً اور متناً ضعیف ہے ، صحیح مسلم میں جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے یہ خطبہ جمعہ میں محفوظ ہے )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´عیدین میں خطبے کا بیان۔`
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر یا عید الاضحی میں گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا، پھر تھوڑی دیر بیٹھے، پھر کھڑے ہو گئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1289]
اردو حاشہ:
یہ روایت سخت ضعیف ہے۔
یہ کیفیت (درمیان میں بیٹھنا)
صرف خطبہ جمعہ میں ثابت ہے
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1289 سے ماخوذ ہے۔