سنن ابن ماجه
باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم— رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے فضائل و مناقب
بَابُ : فَضْلِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ باب: طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
حدیث نمبر: 128
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيل ، عَنْ قَيْسٍ ، قَالَ : " رَأَيْتُ يَدَ طَلْحَةَ شَلَّاءَ وَقَى بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´قیس بن ابی حازم کہتے ہیں کہ` میں نے طلحہ رضی اللہ عنہ کا وہ ہاتھ دیکھا جو شل ( بیکار ) ہو گیا تھا ، جنگ احد میں انہوں نے اس کو ڈھال بنا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کی تھی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔`
قیس بن ابی حازم کہتے ہیں کہ میں نے طلحہ رضی اللہ عنہ کا وہ ہاتھ دیکھا جو شل (بیکار) ہو گیا تھا، جنگ احد میں انہوں نے اس کو ڈھال بنا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کی تھی۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 128]
قیس بن ابی حازم کہتے ہیں کہ میں نے طلحہ رضی اللہ عنہ کا وہ ہاتھ دیکھا جو شل (بیکار) ہو گیا تھا، جنگ احد میں انہوں نے اس کو ڈھال بنا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کی تھی۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 128]
اردو حاشہ: (1)
جنگِ اُحد میں کافروں کے حملوں کا مرکز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات تھی۔
اس وقت جب کہ مسلمان منتشر ہو چکے تھے، حضرت طلحہ اور حضرت سعد رضی اللہ عنہما کی بے مثال بہادری کی وجہ سے مشرکین اپنے ناپاک مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے۔
(2)
ہاتھ سے دفاع کرنے کا مطلب یہ ہے کہ دشمن کی طرف سے آنے والے تیروں کے سامنے اپنا ہاتھ کر دیا تاکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم محفوظ رہیں۔
جس کی وجہ سے ہاتھ شل ہو گیا۔
غالبا ڈھال فوری طور پر دست یاب نہ تھی۔
جنگِ اُحد میں کافروں کے حملوں کا مرکز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات تھی۔
اس وقت جب کہ مسلمان منتشر ہو چکے تھے، حضرت طلحہ اور حضرت سعد رضی اللہ عنہما کی بے مثال بہادری کی وجہ سے مشرکین اپنے ناپاک مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے۔
(2)
ہاتھ سے دفاع کرنے کا مطلب یہ ہے کہ دشمن کی طرف سے آنے والے تیروں کے سامنے اپنا ہاتھ کر دیا تاکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم محفوظ رہیں۔
جس کی وجہ سے ہاتھ شل ہو گیا۔
غالبا ڈھال فوری طور پر دست یاب نہ تھی۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 128 سے ماخوذ ہے۔