حدیث نمبر: 1279
حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عَقِيلٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَثْمَةَ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَبَّرَ فِي الْعِيدَيْنِ : سَبْعًا فِي الْأُولَى ، وَخَمْسًا فِي الْآخِرَةِ ".
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدین کی پہلی رکعت میں سات تکبیریں اور دوسری میں پانچ تکبیریں کہیں ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 1279
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح لغيره , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الجمعة 34 ( 536 ) ، ( تحفة الأشراف : 10774 ) ( صحیح ) » ( اس سند میں کثیر بن عبد اللہ ضعیف ہیں ، لیکن اصل حدیث کثrت طرق کی وجہ سے صحیح ہے ، جیسا کہ اس باب کی سابقہ اور آنے والی احادیث سے واضح ہے )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 536

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ زبیر علی زئی
عیدین کی نماز میں تکبیرات زوائد پر رفع یدین کرنا
عیدین کی نماز میں تکبیرات زوائد پر رفع یدین کرنا بالکل صحیح ہے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رکوع سے پہلے ہر تکبیر کے ساتھ رفع یدین کرتے تھے۔ [ابوداود ح 722، مسند احمد 2/ 133، 134 ح 6175، منتقی ابن الجارود ص 69 ح 178]
اس حدیث کی سند بالکل صحیح ہے، بعض لوگوں کا عصرِ حاضر میں اس حدیث پر جرح کرنا مردود ہے۔
امام بیہقی اور امام ابن المنذر نے اس حدیث سے ثابت کیا ہے کہ تکبیرات ِ عیدین میں بھی رفع یدین کرنا چاہئے۔ دیکھئے: [التلخيص الحبير ج 1 ص 86 ح 692 والسنن الكبريٰ للبيهقي 3/ 292، 293 والاوسط لابن المنذر 4/ 282]
عید الفطر والی تکبیرات کے بارے میں عطاء بن ابی رباح (تابعی) فرماتے ہیں: «نعم ويرفع الناس أيضًا» جی ہاں! ان تکبیرات میں رفع یدین کرنا چاہئے، اور (تمام) لوگوں کو بھی رفع یدین کرنا چاہئے۔ [مصنف عبدالرزاق 3/ 296 ح 5699، وسندہ صحیح]
امام اہلِ الشام اوزاعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «نعم ارفع يديك مع كلهن» جی ہاں، ان ساری تکبیروں کے ساتھ رفع یدین کرو۔ [احكام العيدين للفريابي ح 136، وسنده صحيح]
امام دارالہجرۃ مالک بن انس رحمہ اللہ نے فرمایا: «نعم، إرفع يديك مع كل تكبيرة ولم أسمع فيه شيئًا» جی ہاں، ہر تکبیر کے ساتھ رفع یدین کرو اور میں نے اس (کے خلاف) کوئی چیز نہیں سنی۔ [احكام العيدين ح 137، وسنده صحيح]
اس صحیح قول کے خلاف مالکیوں کی غیر مستند کتاب ’’مدونہ میں ایک بے سند قول مذکور ہے [ج 1 ص 155]
یہ بے سند حوالہ مردود ہے، ’’مدونہ کے رد کے لئے دیکھئے میری کتاب القول المتین فی الجہر بالتأمین [ص 73]
اسی طرح علامہ نووی کا حوالہ بھی بے سند ہونے کی وجہ سے مردود ہے۔ دیکھئے: [المجموع شرح المهذب ج 5 ص 26]
امام اہلِ مکہ شافعی رحمہ اللہ بھی تکبیراتِ عیدین میں رفع یدین کے قائل تھے۔ دیکھئے: [كتاب الأم ج 1 ص 237]
امام اہلِ سنت احمد بن حنبل فرماتے ہیں: «يرفع يديه فى كل تكبيرة» (عیدین کی) ہر تکبیر کے ساتھ رفع یدین کرنا چاہئے۔ [مسائل احمد رواية ابي داود ص 60 باب التكبير فى صلوٰة العيد]
ان تمام آثار سلف کے مقابلے میں محمد بن الحسن الشیبانی نے لکھا ہے: «ولا يرفع يديه» اور (عیدین کی تکبیرات میں) رفع یدین نہ کیا جائے۔ [كتاب الاصل ج 1 ص 374، 375 والاوسط لابن المنذر ج 4 ص 282]
یہ قول دو وجہ سے مردود ہے: محمد بن الحسن الشیبانی سخت مجروح ہے۔
دیکھئے: [كتاب الضعفاء للعقيلي ج 4 ص 52، وسنده صحيح، و جزء رفع اليدين للبخاري بتحقيقي ص 32]
اس کی توثیق کسی معتبر محدث سے، صراحتاً باسند صحیح ثابت نہیں ہے۔ میں نے اس موضوع پر ایک رسالہ ’’النصر الربانی لکھا ہے جس میں ثابت کیا ہے کہ شیبانی مذکور سخت مجروح ہے۔
محمد بن حسن شیبانی کا قول سلف صالحین کے اجماع و اتفاق کے خلاف ہونے کی وجہ سے بھی مردود ہے۔
. . . اصل مضمون کے لئے دیکھیں . . .
تحقیقی مقالات جلد 1 صفحہ 47
درج بالا اقتباس تحقیقی و علمی مقالات للشیخ زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 47 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 536 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´عیدین کی تکبیرات کا بیان۔`
عمرو بن عوف مزنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدین میں پہلی رکعت میں قرأت سے پہلے سات اور دوسری رکعت میں قرأت سے پہلے پانچ تکبیریں کہیں۔ [سنن ترمذي/أبواب العيدين/حدیث: 536]
اردو حاشہ:
1؎:
یعنی تکبیر تحریمہ کے ساتھ پانچ، یعنی پہلی میں چار زائد تکبیریں۔

2؎:
یہ کل سات تکبیریں زائد ہوئیں اس کی سند ابن مسعود رضی اللہ عنہ تک صحیح ہے، لیکن یہ موقوف ہے خود آپ ﷺ کا عمل بارہ زوائد تکبیرات پر تھا، ولنا المرفوع۔

نوٹ:
(سند میں کثیر ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، دیکھئے: صحیح أبی داود 1045-1046، والعیدین 26/989)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 536 سے ماخوذ ہے۔