حدیث نمبر: 1277
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ سَعْدٍ مُؤَذِّنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ يُكَبِّرُ فِي الْعِيدَيْنِ : فِي الْأُولَى سَبْعًا قَبْلَ الْقِرَاءَةِ ، وَفِي الْآخِرَةِ خَمْسًا قَبْلَ الْقِرَاءَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدین کی پہلی رکعت میں قراءت سے پہلے سات تکبیریں اور دوسری رکعت میں قراءت سے پہلے پانچ تکبیریں کہا کرتے تھے ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 1277
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح لغيره , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 3829 ، ومصباح الزجاجة : 446 ) ، وقد أخرجہ : سنن الدارمی/الصلاة 220 ( 1647 ) ( صحیح ) » ( عبدالرحمن بن سعد ضعیف اور ان کے والد مجہول الحال ہیں ، لیکن اگلی حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے ، ملاحظہ ہو : الإروااء : 3/109 )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : معجم صغير للطبراني: 1195

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´عیدین کی نماز میں تکبیرات کی تعداد کتنی ہو گی؟`
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدین کی پہلی رکعت میں قراءت سے پہلے سات تکبیریں اور دوسری رکعت میں قراءت سے پہلے پانچ تکبیریں کہا کرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1277]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
عید کی نماز کی یہ خصوصیت ہے۔
کہ اس میں دوسری نمازوں میں کہی جانے والی تکبیرات کے علاوہ مزید تکبیرات بھی کہی جاتی ہیں۔
انھیں تکبیرات زوائد یا زائد تکبیریں کہتے ہیں۔
یعنی وہ تکبیریں جو دوسری نمازوں سے زائد عید کی نماز میں کہی جاتی ہیں۔

(2)
زائد تکبیروں کی تعداد پہلی رکعات میں سات اور دوسری رکعت میں پانچ ہے۔

(3)
یہ تکبیرات قراءت سے پہلے کہی جاتی ہیں۔

(4)
تکبیر تحریمہ ان تکبیرات میں شامل نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1277 سے ماخوذ ہے۔