سنن ابن ماجه
باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم— رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے فضائل و مناقب
بَابُ : فَضْلِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ باب: طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
حدیث نمبر: 127
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا إِسْحَاق ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ مُعَاوِيَةَ ، فَقَالَ : أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " طَلْحَةُ مِمَّنْ قَضَى نَحْبَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´موسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں کہ` ہم معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے تو انہوں نے کہا : میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” طلحہ ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے اپنے کئے ہوئے عہد کو سچ کر دکھایا “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: پوری آیت یوں ہے: «من المؤمنين رجال صدقوا ما عاهدوا الله عليه فمنهم من قضى نحبه ومنهم من ينتظر وما بدلوا تبديلا» یعنی ” مومنوں میں سے ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے اس وعدے کو جو انہوں نے اللہ سے کیا تھا سچ کر دکھایا، بعض نے تو اپنا عہد پورا کر دیا، اور بعض (موقعہ کے) منتظر ہیں، اور انہوں نے کوئی تبدیلی نہیں کی “ (سورة الأحزاب: 23)۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3740 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´طلحہ بن عبیداللہ رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان`
موسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں کہ میں معاویہ رضی الله عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے کہا: کیا میں تمہیں یہ خوشخبری نہ سناؤں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ” طلحہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کے سلسلہ میں اللہ نے فرمایا ہے کہ وہ اپنا کام پورا کر چکے ہیں “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3740]
موسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں کہ میں معاویہ رضی الله عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے کہا: کیا میں تمہیں یہ خوشخبری نہ سناؤں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ” طلحہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کے سلسلہ میں اللہ نے فرمایا ہے کہ وہ اپنا کام پورا کر چکے ہیں “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3740]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یہ اللہ تعالیٰ کے قول ﴿مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُم مَّن قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُم مَّن يَنتَظِرُ﴾ (الأحزاب:23) کی طرف اشارہ ہے (یعنی: مومنوں میں ایسے بھی لوگ ہیں جنہوں نے اللہ سے کئے ہوئے عہد وپیمان (صبروثبات) کو سچ کر دکھا یا، ان میں سے بعض نے تو اپنی نذر پوری کر دی، اور بعض وقت کا انتظار کر رہے ہیں)
وضاحت:
1؎:
یہ اللہ تعالیٰ کے قول ﴿مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُم مَّن قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُم مَّن يَنتَظِرُ﴾ (الأحزاب:23) کی طرف اشارہ ہے (یعنی: مومنوں میں ایسے بھی لوگ ہیں جنہوں نے اللہ سے کئے ہوئے عہد وپیمان (صبروثبات) کو سچ کر دکھا یا، ان میں سے بعض نے تو اپنی نذر پوری کر دی، اور بعض وقت کا انتظار کر رہے ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3740 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 126 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔`
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طلحہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو فرمایا: ” یہ ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے اپنے کئے ہوئے عہد کو پورا کر دیا۔“ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 126]
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طلحہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو فرمایا: ” یہ ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے اپنے کئے ہوئے عہد کو پورا کر دیا۔“ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 126]
اردو حاشہ: (1)
اس حدیث میں اس آیت مبارکہ کی طرف اشارہ ہے ﴿مِنَ المُؤمِنينَ رِجالٌ صَدَقوا ما عـهَدُوا اللَّهَ عَلَيهِ فَمِنهُم مَن قَضى نَحبَهُ وَمِنهُم مَن يَنتَظِرُ وَما بَدَّلوا تَبديلًا﴾ (الاحزاب: 23)
مومنوں میں سے ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے جو عہد اللہ سے کیا تھا، اسے سچا کر دکھایا۔
بعض نے تو اپنا وعدہ پورا کر دیا اور بعض (موقع کے)
منتظر ہیں اور انہوں نے (اپنے عزم میں)
کوئی تبدیلی نہیں کی۔
(2)
اس میں حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کا شرف ہے کہ انہیں شہادت سے پہلے وعدہ پورا کرنے والا قرار دے دیا گیا۔
گویا انہوں نے اب تک جو کار ہائے نمایاں انجام دیے ہیں وہ اتنے زیادہ اور اتنے عظیم ہیں کہ انہیں شہادت سے پہلے ہی شہیدوں کے بلند مقام کا حامل قرار دیا جا سکتا ہے۔
(3)
اس میں ان کے مخلص مومن ہونے کی گواہی بھی ہے اور یہ کہ ان کا اللہ سے کیا ہوا وعدہ، ایک سچا وعدہ ہے جو خلوص قلب سے کیا گیا ہے۔
اس حدیث میں اس آیت مبارکہ کی طرف اشارہ ہے ﴿مِنَ المُؤمِنينَ رِجالٌ صَدَقوا ما عـهَدُوا اللَّهَ عَلَيهِ فَمِنهُم مَن قَضى نَحبَهُ وَمِنهُم مَن يَنتَظِرُ وَما بَدَّلوا تَبديلًا﴾ (الاحزاب: 23)
مومنوں میں سے ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے جو عہد اللہ سے کیا تھا، اسے سچا کر دکھایا۔
بعض نے تو اپنا وعدہ پورا کر دیا اور بعض (موقع کے)
منتظر ہیں اور انہوں نے (اپنے عزم میں)
کوئی تبدیلی نہیں کی۔
(2)
اس میں حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کا شرف ہے کہ انہیں شہادت سے پہلے وعدہ پورا کرنے والا قرار دے دیا گیا۔
گویا انہوں نے اب تک جو کار ہائے نمایاں انجام دیے ہیں وہ اتنے زیادہ اور اتنے عظیم ہیں کہ انہیں شہادت سے پہلے ہی شہیدوں کے بلند مقام کا حامل قرار دیا جا سکتا ہے۔
(3)
اس میں ان کے مخلص مومن ہونے کی گواہی بھی ہے اور یہ کہ ان کا اللہ سے کیا ہوا وعدہ، ایک سچا وعدہ ہے جو خلوص قلب سے کیا گیا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 126 سے ماخوذ ہے۔