حدیث نمبر: 1268
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ ، وَالْحَسَنُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ، وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ النُّعْمَانَ يُحَدِّثُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا يَسْتَسْقِي ، فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ بِلَا أَذَانٍ ، وَلَا إِقَامَةٍ ، ثُمَّ خَطَبَنَا وَدَعَا اللَّهَ ، وَحَوَّلَ وَجْهَهُ نَحْوَ الْقِبْلَةِ رَافِعًا يَدَيْهِ ، ثُمَّ قَلَبَ رِدَاءَهُ ، فَجَعَلَ الْأَيْمَنَ عَلَى الْأَيْسَرِ ، وَالْأَيْسَرَ عَلَى الْأَيْمَنِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن نماز استسقاء پڑھنے کے لیے نکلے ، تو بغیر اذان و اقامت کے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی ، پھر خطبہ دیا ، اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی ، اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے ہوئے اپنا منہ قبلہ کی طرف کیا ، پھر اپنی چادر پلٹی تو دایاں جانب بائیں کندھے پر اور بایاں جانب دائیں کندھے پر کر لیا ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: استسقا (بارش طلب کرنے) میں جہاں تک ہو سکے امام کو اور رعایا کو اللہ تعالی سے گڑگڑا کر رو رو کر دعائیں مانگنی چاہئے، اور سب لوگوں کو اپنے گناہوں سے توبہ اور استغفار کرنا چاہئے، کیونکہ پانی گناہوں کی نحوست سے رک جاتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 1268
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, قال ابن خزيمة في صحيحه: ’’ في القلب من النعمان بن راشد فإن في حديثه عن الزهري تخليط كثير ‘‘(1422) والزهري مدلس وعنعن (د 145), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 421
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 12291 ، ومصباح الزجاجة : 442 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 2/326 ) ( ضعیف ) » ( بوصیری نے اسناد کو صحیح کہا اور رجال کو ثقات بتایا ، جب کہ سند میں نعمان بن راشد صدوق سئی الحفظ ہیں ، ابن خزیمہ فرماتے ہیں کہ نعمان کی توثیق کے سلسلہ میں دل میں کچھ شک ہے ، اس لئے کہ ان کی زہری سے روایت میں بہت خلط ملط ہے ، اگر یہ خبر ثابت ہو جائے ، تو اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے خطبہ دیا اور دعا کی ، اور دو مرتبہ اپنی چادر پلٹی ، ایک بار صلاة سے پہلے ایک بار اس کے بعد صحیح ابن خزیمہ : 2/338 ، لیکن البانی صاحب نے حدیث کی تضعیف کی )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 1271

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1271 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´استسقا کی دعا کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بارش کی دعا مانگی یہاں تک کہ میں نے آپ کی بغل کی سفیدی دیکھی، یا یوں کہا کہ یہاں تک کہ آپ کی بغل کی سفیدی دکھائی دی۔ معتمر کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ یہ استسقاء کے بارے میں ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1271]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
استسقاء کے موقع پر خوب خشوع و خضوع سے طویل دعا کرنی چاہیے۔

(2)
نماز استسقاء کے موقع پر دعا کرتے ہوئے عام حالات سے زیادہ ہاتھ بلند کرنے چاہیں-
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1271 سے ماخوذ ہے۔