سنن ابن ماجه
كتاب إقامة الصلاة والسنة— کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
. بَابُ : مَا جَاءَ فِي صَلاَةِ الْكُسُوفِ باب: سورج اور چاند گرہن کی نماز کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي حَيَاةِ ِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَسْجِدِ ، فَقَامَ فَكَبَّرَ فَصَفَّ النَّاسُ وَرَاءَهُ ، فَقَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً ، ثُمَّ كَبَّرَ ، فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ، فَقَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ، ثُمَّ قَامَ فَقَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً هِيَ أَدْنَى مِنَ الْقِرَاءَةِ الْأُولَى ، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا هُوَ أَدْنَى مِنَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ، ثُمَّ قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ، ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ ، فَاسْتَكْمَلَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ ، وَانْجَلتَ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَنْصَرِفَ ، ثُمَّ قَامَ فَخَطَبَ النَّاسَ ، فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ " ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا ، فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلَاةِ " .
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گرہن ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد گئے ، اور کھڑے ہو کر «الله أكبر» کہا ، لوگوں نے بھی آپ کے پیچھے صف لگائی ، آپ نے لمبی قراءت کی ، پھر «الله أكبر» کہا ، اور دیر تک رکوع کیا ، پھر رکوع سے اپنا سر اٹھایا ، اور «سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد» کہا ، پھر کھڑے ہوئے اور لمبی قراءت کی جو پہلی قراءت سے کم تھی ، پھر «الله أكبر» کہا ، اور لمبا رکوع کیا جو پہلے رکوع سے کم تھا ، پھر «سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد» کہا ، پھر دوسری رکعت میں بھی ایسا ہی کیا ، اور چار رکوع اور چار سجدے مکمل کئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سلام پھیرنے سے پہلے سورج روشن ہو چکا تھا ، پھر آپ کھڑے ہوئے ، خطبہ دیا ، اور اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کی جس کا وہ مستحق ہے ، پھر فرمایا : ” بیشک سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ، وہ کسی کی موت و پیدائش کی وجہ سے نہیں گہناتے ، لہٰذا جب تم ان کو گہن میں دیکھو تو نماز کی طرف دوڑ پڑو “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گرہن ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد گئے، اور کھڑے ہو کر «الله أكبر» کہا، لوگوں نے بھی آپ کے پیچھے صف لگائی، آپ نے لمبی قراءت کی، پھر «الله أكبر» کہا، اور دیر تک رکوع کیا، پھر رکوع سے اپنا سر اٹھایا، اور «سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد» کہا، پھر کھڑے ہوئے اور لمبی قراءت کی جو پہلی قراءت سے کم تھی، پھر «الله أكبر» کہا، اور لمبا رکوع کیا جو پہلے رکوع سے کم تھا، پھر «سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد» کہا، پھر دوسری رکعت میں بھی ایسا ہی کیا، اور چ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1263]
فوائد ومسائل: (1)
اس حدیث میں گرہن کی نماز کا طریقہ بیان کیا گیا ہے۔
صحیح اور راحج موقف یہی ہے کہ ہر رکعت میں دو رکوع کئے جایئں اور پہلے رکوع کے بعد دوبارہ قراءت کی جائے۔ (نماز کسوف وخسوف سے متعلق تفصیل کےلئے دیکھئے: (سنن ابودائود (اردو)
دارالسلام حدیث 1177تا 1195)
(2)
پہلے قیام سے اٹھتے ہوئے بھی (سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ)
کہا جائے۔
جس طرح عام نمازوں میں رکوع سے اٹھ کرکہا جاتا ہے۔
(3)
یہ نماز سورج اور چاند دونوں کے گرہن کے موقع پر ادا کی جائے۔
عبید بن عمیر سے روایت ہے کہ مجھے اس شخص نے خبر دی ہے جس کو میں سچا جانتا ہوں (عطا کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ اس سے ان کی مراد عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں) کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گرہن لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لمبا قیام کیا، آپ لوگوں کے ساتھ قیام میں رہے پھر رکوع میں رہے، پھر قیام میں رہے پھر رکوع میں رہے پھر قیام میں رہے پھر رکوع میں رہے اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں ہر رکعت میں آپ نے تین تین رکوع کیا ۱؎ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیسرا رکوع کرتے پھر سجدہ کرتے یہاں تک کہ آپ کے لمبے قیام کے باعث اس دن کچھ لوگوں کو (کھڑے کھڑے) غشی طاری ہو گئی اور ان پر پانی کے ڈول ڈالے گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کرتے تو «الله أكبر» کہتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو «سمع الله لمن حمده» کہتے یہاں تک کہ سورج روشن ہو گیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی کے مرنے یا جینے کی وجہ سے سورج یا چاند میں گرہن نہیں لگتا بلکہ یہ دونوں اللہ کی نشانیاں ہیں، ان کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے لہٰذا جب ان دونوں میں گرہن لگے تو تم نماز کی طرف دوڑو۔“ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1177]
➊ رکوع کے بعد قیام میں سورت فاتحہ پڑھنے کی صراحت نہیں ہے، صرف دوبارہ قراءت کرنے کا ذکر ہے کیونکہ دوبارہ قرأءت شروع کر دینا ایک ہی رکعت کا تسلسل ہے۔ لہٰذا نئے سرے سے سورہ فاتحہ نہیں پڑھنی چاہیے۔ تاہم بعض آئمہ دوبارہ سورہ فاتحہ پڑھنے کے قائل ہیں لیکن یہ درست نہیں۔
➋ نماز کسوف میں بھی خطبہ دینا چاہیے، جس میں اہم امور کی نشاندہی کی جائے۔
➌ کسی بڑے چھوٹے کی بشر کی موت حیات کے ساتھ ان اجرام فلکی کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
➍ شیخ البانی رحمہ اللہ کے نزدیک اس میں تین رکوع کے الفاظ شاذ ہیں۔ محفوظ الفاظ دو رکوع ہیں جیسا کہ صحیحین میں ہے اور حدیث 1180 میں بھی ہے۔
لغوی طور پر کسف، انکسف اور خسف احادیث کی رو سے ہم معنی ہیں اور شمس و قمر دونوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں اگرچہ بعض نے (فقہاء نے)
شمس کے لیے کسوف اور قمر کے لیے خسوف کا لفظ استعمال کیا ہے کیونکہ کسوف کا معنی سیاہی مائل ہونا ہے اور خسوف کا کم ہونا گھٹنا، ان کی روشنی مکمل طور پر بھی ختم ہو سکتی ہے جزوی طور پر بھی۔
(2)
اہل ہئیت کے نزدیک عام طور پر سورج کو گہن 28، 29 قمری تاریخ کو لگتا ہے اور چاند کو 13، 14 قمری تاریخ کو اور اصولی طورپر ہر چھ ماہ بعد سورج کو گرہن لگنا ممکن ہے اور قاضی محمد سلیمان منصور پوری نے اپنے چھوٹے بھائی وکیل صاحب یعنی قاضی عبدالرحمٰن کے حوالہ سے جو علم ہئیت کے بہت بڑے ماہر تھے۔
یہ لکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تئیس سالہ دور نبوت میں 19 دفعہ کسوف شمس ہوا ہے اور بقول بعض خسوف قمر صرف دو دفعہ اور بقول امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ آپ نے 5 ہجری میں نماز خسوف قمر پڑھی ہے اور سورج گرہن پہلی دفعہ 9 اپریل 609ء بمطابق 28 ربیع الآخر 40 میلادنبوی میں اور آخری 27 جنوری 632ء بمطابق 29 شوال 10 ہجری بروزسوموار اور ہندوستان میں اس وقت 28 شوال تھا۔
اور یہ وہ دن ہے جس میں آپﷺ کے لخت جگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی وفات ہوئی ہے اور بقول بعض اس وقت دن کے ساڑھے آٹھ بجے تھے۔
اس طرح ہجرت کے بعد سورج کو گرہن دس دفعہ لگا لیکن گرہن لگنے سے اس کا ہر جگہ نظر آنا ضروری نہیں ہے، اس لیے نماز خسوف میں اختلاف ہے، امام مالک رحمۃ اللہ علیہ، شافعی رحمۃ اللہ علیہ اور احمد رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک صلاۃ الکسوف دو رکعتیں طویل قیام طویل رکوع اور طویل سجود کے ساتھ ہیں اور ہر رکعت میں دو رکوع اور سجدے ہیں۔
(3)
اور پہلے رکوع سے اٹھ کر فاتحہ پڑھ کر قرآءت شروع کی جائے گی اور احناف کے نزدیک صلاۃ الکسوف بھی عام نوافل کی طرح ہیں یعنی ایک رکعت میں ایک ہی رکوع ہے لیکن صحیح مسلم کی روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ آپﷺ نے ایک رکعت میں بعض دفعہ دو بعض دفعہ تین اور بعض دفعہ چار رکوع کیے اور سنن ابی داؤد رحمۃ اللہ علیہ میں پانچ رکوع بھی آئے ہیں اس لیے امام اسحق رحمۃ اللہ علیہ، ابن جریر رحمۃ اللہ علیہ اور ابن المنذر رحمۃ اللہ علیہ وغیرہم کے نزدیک تمام صورتیں جائز ہیں اور بقول امام نووی رحمۃ اللہ علیہ دلیل کی رو سے یہی مذہب قوی ہے اگر صلاۃ کسوف میں تکرار ثابت ہو جائے، جیسا کہ کسوف کی کثرت کا اور حدیثوں کے اختلاف کا تقاضا ہے تو اس صورت میں تمام صورتوں کے جواز میں کوئی کلام نہیں ہے۔
لیکن اگر نماز میں تکرار ثابت نہ ہو جیسا کہ آئمہ اربعہ کا موقف تو پھر احادیث کو ایک دوسرے پر ترجیح دئیے بغیر چارہ نہیں ہے، جیسا کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ ایک رکعت میں صرف دو رکوع والی روایات ہی مختلف صحابہ سے لائے ہیں لیکن اس صورت میں بلا وجہ صحیح احادیث کو راجح اور مرجوح قرار دینا پڑے گا۔
(4)
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ، امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اور امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک صلاۃ الکسوف سنت مؤکدہ ہے اور احناف کے مختلف اقوال ہیں۔
واجب، سنت مؤکدہ، سنت غیرہ مؤکدہ اورامام ابو عوانہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک واجب ہے اور یہی دلیل کا تقاضا ہے۔
(5)
شوافع کے نزدیک صلاۃ الکسوف کے لیے کوئی وقت متعین نہیں ہے۔
کیونکہ سورج کے گرہن لگنے کا کوئی متعین وقت نہیں ہے اس لیے جب سورج گہنائےگا اس وقت نماز پڑھی جائے گی اور یہی صحیح موقف ہے احناف اور حنابلہ کے نزدیک اوقات کراہت میں نماز نہیں پڑھی جائے گی۔
اور مالکیہ کے نزدیک اس کا وقت چاشت سے لے کر سورج ڈھلنے تک ہے۔
(6)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں سورج کو آخری گہن اس وقت لگا جس دن آپﷺ کے شیر خوار صاحبزادے ابراہیم علیہ السلام تقریباً ڈیڑھ سال کی عمر کے تھے اور عربوں میں زمانہ جاہلیت کے توہمات میں سے ایک وہم و خیال یہ بھی تھا کہ بڑے لوگوں کی موت و حیات پر سورج کو گہن لگتا ہے اور آپﷺ کے صاحبزادے کی وفات کے دن سورج کے گہن میں آ جانے سے اس توہم پرستی اور غلط عقیدہ کو تقویت پہنچ سکتی تھی اور بعض لوگوں نے اس کا اظہار بھی کیا اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقعہ پر غیر معمولی خشیت اور انتہائی فکر مندی کا اظہار کیا۔
لوگوں کو خصوصی طورپر صلاۃ کسوف کے لیے مسجد میں الصلاۃ جامعۃ کے الفاظ کے ذریعہ جمع کیا اور نماز میں آپ نے قیام رکوع اور سجدے بھی بہت طویل کیے۔
اثنائے نماز میں دعا بھی بہت اہتمام اور ابہتال کے ساتھ کی نماز کے بعد خطبہ دیا اور اس میں خصوصی طور پر اس خیال کی پرزور تردید کی کہ سورج یا چاند کو گہن کسی بڑے آدمی کی حیات یا موت کی وجہ لگتا ہے یہ تو دراصل اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، قدرت اور صنعت اس کی سطوت وہیبت اور اس کے جلال و جبروت کی نشانی ہے جس کا مقصد لوگوں کو ان کے گناہوں اور جرائم سے باز رکھنا ہے کہ اس ذات کی پکڑ سے بچو جو سورج اور چاند کو بھی بے نور کر سکتا ہے۔
جن کی روشنی سے دنیوی زندگی کا کاروبار چل رہا ہے۔
اس لیے آپﷺ خطبہ میں توبہ و استغفار اور صدقہ و خیرات کرنے کی تلقین فرماتے اور آپﷺ نے فرمایا: (يُخَوِّفُ اللَّهُ بِهَا عِبَادَهُ)
’’اس کے ذریعہ اپنے بندوں کو ڈرتا ہے‘‘
سَوَائِب: سَائِبَة کی جمع ہے۔
اس سے مراد وہ اونٹ ہے جس کو بتوں کی نذر کر کے چھوڑ دیا جاتا تھا اور اس سے کسی قسم کا کام نہیں لیا جاتا۔
وہ صرف مجاوروں کے لیے وقف ہو جاتا تھا۔
فوائد ومسائل: اس حدیث میں جنت اور دوزخ کے دیکھنے کا تذکرہ کیا گیا ہے اور نظارہ آپﷺ نے ان مادی اور ظاہری آنکھوں سے کیا تھا۔
اگر آج سائنس اس قدر ترقی کر سکتی ہے کہ ایک انسان ایک جگہ کھڑے ہو کرتقریر کر رہا ہے اور لوگ ہر جگہ اپنے اپنے گھر میں اس کی تقریر سن رہے ہیں اور اس کو دیکھ رہے ہیں تو جو ذات تمام کائنات کی خالق اور مالک ہے اور سائنسدان اس کی ایک ادنیٰ مخلوق ہیں تو وہ اگر اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی جگہ جنت اور دوزخ کا حقیقتاً نظارہ کرا دے تو یہ کیوں نہیں ہو سکتا؟ لیکن اس سے یہ ثابت کرنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب دیکھنا چاہیں دیکھ سکتے ہیں سات آسمان آپﷺ کے لیے حجاب نہیں بنتے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ آپﷺ زمین پر رہتے ہوئے جنت میں تصرف کر سکتے ہیں اور جنت کی اشیاء آپﷺ کے دست تصرف کی زد میں ہیں یہ سب باتیں محض سینہ زوری ہیں۔
اگر آپﷺ جب چاہیں دیکھ سکتے ہیں مَقَامِی هٰذا کی قید لگانے کی کیا ضرورت تھی اور یہ کام صرف واقعہ کسوف میں ہی کیوں پیش آیا۔
جو ان حضرات کے نزدیک صرف ایک دفعہ کے شیر خوار بیٹے کی وفات پر ہجری میں پیش آیا اور اپنے بیٹے کو موت سے کیوں نہیں بچا لیا۔
لیکن عجیب بات ہے کہ آخر میں لکھا ہے لیکن یہ تمام کلمات اللہ تعالیٰ کی اجازت اور عطا کے ساتھ مقید ہیں (شرح صحیح مسلم: ج 2 ص: 739)
جب صورت حال یہ ہے تو پھر اس کی کیا حقیقت رہی کہ اللہ تعالیٰ نے جنت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملک کر دی ہے جس طرح چاہتے ہیں اس میں تصرف کرتے ہیں۔
اسی طرح اس واقعہ سے آپ کے علم غیب کو کشید کرنےکی لاحاصل بحث کی ہے اور اس کے تحت متضاد باتیں لکھی ہیں۔
اس میں فیصلہ کن بات وہی جو علامہ آلوسی کی تفسیر سے: (قُل لَّا يَعْلَمُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ ۚ)
کی آیت کی تفسیر سے نقل کی ہے۔
اگر مکمل گہن لگا ہے تو طویل قیام میں تین یا چار یا پانچ رکوع ہر رکعت میں کیے جائیں گے اور ہر بعد والا قیام اور رکوع پہلے سے کم ہو گا اس طرح دو رکعت کو اس قدر لمبا کیا جائے گا کہ فراغت کے وقت تک سورج اور چاند روشن ہو چکے ہوں۔
اور اس کے لیے (الصلاۃ جامعة)
کے الفاظ سے لوگوں كو جمع ہونے کی دعوت دی جائے گی اور نماز میں قرآءت بلند ہو گی۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورج اور چاند میں گرہن کسی کے مرنے یا جینے سے نہیں لگتا ہے، جب تم اسے دیکھو تو اللہ عزوجل سے دعا کرو اور اس کی بڑائی بیان کرو اور صدقہ و خیرات کرو۔“ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1191]
کسوف کے موقع پر معروف نماز کے علاوہ مالی صدقہ کرنا بھی مستحب ہے۔
مگر دو دو رکوع کی روایتیں صحت میں بڑھ کر ہیں اور اہلحدیث اور شافعی کا اس پر عمل ہے اور حنفیہ کے نزدیک ہر رکعت میں ایک ہی رکوع کرے۔
امام ابن قیم ؒ نے کہا ایک رکوع کی روایتیں صحت میں دو دو رکوع کی روایتوں کے برابر نہیں ہیں اب جن روایتوں میں دو رکوع سے زیادہ منقول ہیں تو وہ راویوں کی غلطی ہے یا کسوف کا واقعہ کئی بار ہوا ہو گا۔
بعضے علماء نے یہی اختیار کیا ہے کہ جن جن طرحوں سے کسوف کی نماز منقول ہے ان سب طرحوں سے پڑھنا درست ہے۔
قسطلانی ؒ نے پچھلے متکلمین کی طرح غیرت کی تاویل کی ہے اور کہا ہے کہ غیرت غصے کے جوش کو کہتے ہیں اور اللہ تعالی اپنے تغیرات سے پاک ہے۔
اہلحدیث کا یہ طریق نہیں، اہل حدیث اللہ تعالی کی ان سب صفات کو جو قرآن وحدیث میں وارد ہیں اپنے ظاہری معنی پر محمول رکھتے ہیں اور ان میں تاویل اور تحریف نہیں کرتے جب غضب اللہ تعالی صفات کی میں سے ہے تو غیرت بھی اس کی صفات میں سے ہوگی غضب زائد اور کم ہو سکتا ہے اور تغیر اللہ کی ذات اور صفات حقیقیہ میں نہیں ہوتا لیکن صفات افعال میں تو تغیر ضرور ہے، مثلاً گناہ کرنے سے اللہ تعالی ناراض ہوتا ہے پھر توبہ کرنے سے راضی ہو جاتا ہے اللہ تعالی کلا م کرتا اور کبھی کلام نہیں کرتا کبھی اترتا ہے کبھی چڑھتا ہے غرض صفات افعالیہ کا حدوث اور تغیر اہلحدیث کے نزدیک جائز ہے۔
(مولانا وحید الزماں مرحوم)
(1)
اس حدیث کو حضرت عائشہ ؓ سے بیان کرنے والے آپ کے بھانجے حضرت عروہ بن زبیر اور عمرہ بنت عبدالرحمٰن ہیں۔
پھر عروہ سے بیان کرنے والے ان کے بیٹے حضرت ہشام اور امام زہری ہیں۔
ان میں سے ہر ایک نے ایسی باتیں بیان کی ہیں جو دوسرے بیان نہیں کرتے۔
حضرت ہشام کے علاوہ اور کوئی راوی سورج گرہن کے وقت صدقہ و خیرات کرنے کا ذکر نہیں کرتا، اس لیے امام بخاری ؒ نے مذکورہ روایت ہشام پر صدقہ کرنے کا عنوان قائم کیا ہے۔
چونکہ صدقہ و خیرات نماز کسوف کے بعد ہوتا ہے، اس لیے امام بخاری ؒ نے نماز کسوف کے عنوان کے بعد اس موقع پر صدقہ و خیرات کرنے کا عنوان قائم کیا ہے۔
(فتح الباري: 683/2)
اللہ تعالیٰ اپنی نشانیاں اس وقت دکھاتا ہے جب بندوں کی طرف سے محارم کی پردہ داری اور معاصی کا کھلے بندوں ارتکاب ہوتا ہے۔
بندوں کو ڈرانے اور گناہوں سے باز رکھنے کے لیے ایسی نشانیوں کا ظہور ہوتا ہے، لہٰذا ایسے اوقات میں اللہ کے حضور صدقہ و خیرات کرنا چاہیے تاکہ وہ ہمیں اس وقت اپنے انتقام کا نشانہ نہ بنائے اور ہمیں دیگر مصائب و آلام سے محفوظ رکھے۔
اس روایت میں جرم زنا کو بطور خاص بیان کیا ہے کیونکہ اس جرم کی خصوصیت ہے کہ نفس کا میلان جتنا زنا کی طرف ہوتا ہے اتنا دیگر معاصی کی طرف نہیں ہوتا۔
(2)
اس حدیث میں غیرت کو اللہ کی صفت کے طور پر بیان کیا گیا ہے جو برحق ہے۔
ہم اس کی کوئی تاویل نہیں کرتے۔
ہم اللہ تعالیٰ کی تمام صفات کو ان کے ظاہری معنی پر محمول کرتے ہیں بشرطیکہ وہ صفات قرآن و حدیث سے ثابت ہوں۔
ان کی تاویل کرنا متکلمین کا طریقہ ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ غیرت، غصے کے وقت جوش کو کہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اس قسم کے تغیرات سے پاک ہے۔
ہمارے نزدیک اللہ کی صفات افعال میں تغیر آ سکتا ہے، مثلاً: گناہ کرنے سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے تو انابت اور توبہ سے خوش ہوتا ہے، اس بنا پر ہم صفات باری تعالیٰ میں کوئی تاویل یا تحریف نہیں کرتے بلکہ انہیں جوں کا توں اللہ کے لیے ثابت کرتے ہیں۔
(3)
امام بخاری ؒ کی پیش کردہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز کسوف کو رسول اللہ ﷺ نے تمام نمازوں سے زیادہ طویل پڑھایا ہے اور سورج کے صاف ہونے تک اسے جاری رکھا ہے۔
صحابۂ کرام نے طویل قیام، بہت لمبے رکوع اور سجود کی کیفیت کو اپنے اپنے الفاظ میں بیان کیا۔
اس سلسلے میں سب سے زیادہ قوی اور صحیح مذکورہ روایت ہے جس میں ہر ایک رکعت کے اندر دو دو رکوع اور دو دو سجدے ہیں۔
اگرچہ بعض روایات میں تین تین، بعض میں چار چار اور بعض میں پانچ پانچ رکوع ہر رکعت میں وارد ہیں مگر مذکورہ روایت پر امام بخاری اور امام مسلم کا اتفاق ہے۔
امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمہما اللہ نے بھی اسے ترجیح دی ہے۔
امام بخاری ؒ کا بھی یہی رجحان ہے۔
واللہ أعلم۔
مصنف عبدالرزاق میں روایت کے آخر میں یہ اضافہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جب تم اس قسم کا حادثہ دیکھو تو صدقہ و خیرات کرو۔
‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ گرہن کے وقت نماز پڑھنا، ذکر کرنا، توبہ و استغفار اور صدقہ و خیرات کرنا مستحب ہے، کیونکہ ان کی برکت سے اللہ تعالیٰ مصائب اور پریشانیاں دور کرتا ہے۔
‘‘ واللہ أعلم۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں سورج گرہن لگا تو آپ (نماز کے لیے) کھڑے ہوئے، اور تکبیر کہی، اور لوگوں نے آپ کے پیچھے صفیں باندھیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی لمبی قرآت کی، پھر «اللہ اکبر» کہا، اور ایک لمبا رکوع کیا، پھر اپنا سر اٹھایا، تو «سمع اللہ لمن حمده ربنا لك الحمد» کہا، پھر آپ کھڑے رہے، اور ایک لمبی قرآت کی مگر پہلی قرآت سے کم، پھر تکبیر کہی، اور ایک لمبا رکوع کیا، مگر پہلے رکوع سے چھوٹا، پھر آپ نے «سمع اللہ لمن حمده ربنا لك الحمد» کہا، پھر سجدہ کیا، پھر دوسری رکعت میں بھی آپ نے اسی طرح کیا، اس طرح آپ نے چار رکوع اور چار سجدے پورے کیے، آپ کے نماز سے فارغ ہونے سے پہلے ہی سورج صاف ہو گیا، پھر آپ نے کھڑے ہو کر لوگوں کو خطاب کیا، تو اللہ تعالیٰ کی ثنا بیان کی جو اس کے شایان شان تھی، پھر فرمایا: بلاشبہ سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، انہیں نہ کسی کے مرنے سے گرہن لگتا ہے، نہ کسی کے پیدا ہونے سے، جب تم انہیں دیکھو تو نماز پڑھو، جب تک کہ وہ تم سے چھٹ نہ جائے، نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میں نے اپنے اس کھڑے ہونے کی جگہ میں ہر وہ چیز دیکھ لی جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے، تم نے مجھے آگے بڑھتے ہوئے دیکھا، میں نے چاہا کہ جنت کے پھلوں میں سے ایک گچھا توڑ لوں، جب تم نے مجھے دیکھا میں آگے بڑھا تھا، اور میں نے جہنم کو دیکھا، اس حال میں کہ اس کا ایک حصہ دوسرے کو توڑ رہا تھا جب تم نے مجھے پیچھے ہٹتے ہوئے دیکھا، اور میں نے اس میں ابن لحی کو دیکھا ۱؎، یہی ہے جس نے سب سے پہلے سائبہ چھوڑا ۲؎۔“ [سنن نسائي/كتاب الكسوف/حدیث: 1473]
➋ ’’ہر چیز“ بعض شارحین نے اس میں اللہ تعالیٰ کو بھی داخل سمجھا ہے، مگر صراحت کے بغیر اتنی بڑی بات کہنا بہت بڑی جسارت ہے۔ جبکہ قرآن مجید میں ہے: (لن ترانی) (الاعراف7: 143) اور (لاتدرکہ الابصار) (الانعام6: 103) یعنی اللہ تعالیٰ کو ان آنکھوں سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ ہاں اگلے جہاں مومنین کواللہ تعالیٰ کا دیدار نصیب ہو گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان میں شامل فرمائے
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عذاب قبر برحق ہے، قبر عالم برزخ ہے، اس کی کیفیات کو عالم دنیا پر قیاس کرنا درست نہیں ہے، جس نے بھی عالم برزخ کو عالم دنیا پر قیاس کیا، وہ گمراہ ہو گیا، دنیا الگ ہے، قبر الگ ہے، قبر کے معاملات کو دنیا کے معاملات پر قیاس کرنا درست نہیں ہے۔ نیز اس حدیث میں نماز کسوف کا طریقہ بیان ہوا ہے، اور عذاب قبر سے ہمیشہ پناہ مانگنی چاہیے۔ یہ بھی ثابت ہوا کہ فتنہ دجال بہت بڑا فتنہ ہے، اللہ تعالیٰ ٰ ہمیں اس سے محفوظ فرمائے، آمین۔